اس روایت کی تحقیق سے
روایت:’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان میں داخل ہو یا اس کے پاس سے گزرے، اور اس نے سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص اور سورۂ تکاثرایک بار پڑھی، اور پھر اس نے کہا: (اے اللہ!) میں نے تیرے کلام میں سے جو پڑھا، میں اس کا ثواب قبرستان کے مؤمن مردوں اور عورتوں کے لئے کرتا ہوں، نبیﷺ نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا تو مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں اس بندے کےلئے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت کرنے والے ہوں گے، باوجودیکہ میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا، شفاعت کی اجازت دئیے جانے والا ہوں گا‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند میں موجود راوی ابو بکر احمد بن سعید بن فَرْضَخ اِخْمِیْمِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن جوزی l ’’کتاب الموضوعات‘‘[2]میں زیر بحث کے علاوہ ایک دوسری حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’هذا حديث لا يصح، محمد وأحمد مطعون فيهما، وفيه مجاهيل منهم أبو اليسع‘‘.یہ حدیث صحیح نہیں ہے، محمد اور احمد (یعنی احمد بن سعید اِخْمِیْمِی) دونوں اس میں مطعون ہیں، اور اس میں مجاہیل ہیں، ان میں سے ابو الیسع بھی ہے۔
حافظ دار قطنی l ، احمد بن سعید کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن القاسم بن عبد الله بن مهدي، عن علي بن أحمد بن سهل الأنصاري، عن عيسى بن يونس، عن مالك، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم أحاديث في ثواب المجاهدين والمرابطين والشهداء، موضوعة كلها، وكذب، لا تحل روايتها، والحمل فيها على ابن فَرْضَخ، فهو المتهم بها، فإنه كان يركب الأسانيد، ويضع عليها أحاديث‘‘[3]. اس نے قاسم بن عبد اللہ بن مہدی، عن علی بن احمد بن سہل انصاری، عن عیسی بن یونس، عن مالک، عن الزہری، عن سعید بن المسیب، عن عمر بن الخطاب r کے طریق سے نبی ﷺ سے مجاہدین، مرابطین اور شہداء کے ثواب کے متعلق احادیث روایت کی ہیں، جو سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں، جن کا روایت کرنا حلال نہیں ہے، اور ان میں حمل ابن فَرْضَخ پر ہے، وہی ان میں متہم ہے، کیونکہ وہ اسانید جوڑتا تھا، اور ان پر احادیث گھڑتا تھا۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان المیزان‘‘[4] میں حافظ دار قطنی l کا قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’ورأيت له تصانيف منها كتاب الاحتراف ذكر فيه أحاديث وآثارا في فضائل التجارة، لا أصل لها‘‘. میں نے احمد بن سعید کی تصانیف دیکھی ہیں، ان میں سے ایک ’’کتاب الاحتراف‘‘ہے، جس میں اس نے تجارت کے فضائل کی احادیث و آثار ذکر کئے ہیں، جن کی کوئی اصل نہیں ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن حجر عسقلانی l نے احمد بن سعید کی ایک روایت نقل کی ہے۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان المیزان‘‘[5] میں احمد بن موسی کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت احمد بن سعید اِخْمِیْمِی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والآفة فيه من أحمد بن سعيد، فإنه كان وضاعا، كما تقدم‘‘. اس میں آفت احمد بن سعید کی وجہ سے ہے، کیونکہ وہ وضاع ہے، جیسا کہ گزر چکا ہے۔
علامہ محمد بن یوسف صالحی l ’’سبل الهدى‘‘[6] میں ایک روایت کے تحت اخمیمی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’والبيهقي من طريق أحمد بن سعيد بن فَرْسَخ[كذا في الأصل: والصحيح: فَرْضَخ] الإخْمِيْمِي، عن شيخه القاسم بن عبد الله بن مهدي، وهما متهمان ...‘‘ . اور بیہقی l نے احمد بن سعید بن فَرْضَخ اِخْمِیْمِی، عن شیخہ قاسم بن عبد اللہ بن مہدی کے طریق سے (روایت کیا ہے) اور وہ دونوں متہم ہیں۔۔۔‘‘۔
حوالہ جات
[2] کتاب الموضوعات:1/328،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .
[3] انظرلسان المیزان:1/472،رقم:530،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[4] لسان المیزان:1/472،رقم:530،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۳هـ .
[5] لسان الميزان:1/681،رقم:874،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلاميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[6] سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد:2/186ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الکتب العلمیة ـ بیروت،الطبعة الأولى۱۴۱۴هـ.