التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو بشیر جابر بن نوح حمانی کوفی

المتوفی ۲۰۳ھایک روایت میں تذکرہ

ابو بشیر جابر بن نوح حمانی کوفی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو بشیر[13] جابر بن نوح حمانی کوفی (المتوفی ۲۰۳ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن جنید l فرماتے ہیں: ’’وسئل يحيى بن معين وأنا أسمع، عن جابر بن نوح الحِمَّاني، فضعفه، وقال: رأيت حفص بن غياث يضحك منه، يهزأ به، ثم قال يحيى: ليس بشيء‘‘[14]. یحیی بن معین l سے جابر بن نوح حمانی کے متعلق پوچھا گیا، میں سن رہا تھا، آپ نے اسے ضعیف قرار دیا، اور فرمایا: حفص بن غیاث اس پر ہنستے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے، پھر یحیی l نے کہا: یہ لیس بشیء ہے۔

حافظ ابن جنید l ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’سألت يحيى عن جابر بن نوح الحِمّاني، فقال: قد كان هاهنا، قلت: كتبت عنه شيئا؟ قال: لا‘‘[15]. میں نے یحیی l سے جابر بن نوح حمانی کے متعلق پوچھا، تو آپ نے فرمایا: وہ یہی تھا، میں نے کہا: آپ نے اس سے کچھ لکھا ہے؟ یحیی l نے کہا: نہیں۔

حافظ یحیی بن معین l ایک دوسرے مقام پر اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ولم يكن بثقة، وكان أبوه نوح ثقة‘‘[16]. یہ ثقہ نہیں تھا، اور اس کا والد نوح ثقہ تھا۔

امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[17] میں جابر بن نوح حمانی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يعد في الكوفيين، سمع الأعمش‘‘. کوفہ والوں میں شمار ہوتا ہے، اس نے اعمش سے سنا ہے۔

حافظ ابو زرعہ l، جابر بن نوح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’واهي الحديث، حدث بغير حديث منكر‘‘[18]. یہ واہی الحدیث ہے، اس نے ایک سے زائد منکر احادیث بیان کی ہیں۔

امام ابو داؤد l، جابر بن نوح کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ما أنكر حديثه‘‘[19]. اس کی حدیث کتنی منکر ہے۔

حافظ ابو حاتم l نے جابر بن نوح کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے[20]۔

امام نسائی l نے ’’الضعفاء‘‘[21] میں جابر بن نوح کو ’’ليس بالقوي‘‘ کہا ہے۔

حافظ زکریا ساجی l نے جابر بن نوح کو ’’ليس بثقة‘‘ کہا ہے[22]۔

حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[23] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن الأعمش وابن (أبي) خالد المناكير الكثيرة، كأنه كان يخطئ، حتى صار في جملة من سقط الاحتجاج بهم إذا انفردوا‘‘. یہ اعمش اور ابن ابی خالد سے بہت سی مناکیر روایت کرتا ہے، گویا کہ یہ خطاء کرتا تھا، حتی کہ یہ فی الجملہ ان لوگوں میں سے ہے جن سے حالت انفراد میں احتجاج ساقط ہے۔

حافظ ابو احمد حاکم l ’’الأسامي‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’ليس بالقوي عندهم‘‘. محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہے۔

حافظ ذہبی l نے جابر بن نوح کو ’’الكاشف‘‘[25] میں ’’ليس بالقوي‘‘، اور ’’المقتنى‘‘[26] میں ’’واه‘‘کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے ’’التقريب‘‘[27] میں جابر بن نوح کو ’’ضعيف‘‘ کہا ہے۔

حوالہ جات

[13] ’’ابو بشیر‘‘ کے اعراب کے بارے میں حافظ مغلطای l لکھتے ہیں: ’’كذا رأيته بخط المهندس مضبوطا عن المزي بفتح الباء من بشير، وكذا ذكره ابن الجوزي في كتاب الضعفاء، وفي كتاب أبي أحمد الحاكم: بشيير[كذا في الأصل، والصحيح:بُشَيْر]، يعني: بضم الباء، وقال: ليس بالقوي عندهم‘‘. (إكمال تهذيب الكمال: 3/137، رقم:918،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم،الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ) .

[14] سؤالات ابن الجنيد:ص:298،رقم:104،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[15] سؤالات ابن الجنيد:ص:۴۲۳،رقم:۶۲۳،ت:أحمد محمد نور،مكتبة الدار ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1408هـ .

[16] تاريخ يحيي بن معين برواية الدوري:1/۳۵۶،رقم:۲۳۹۸،ت:عبد الله أحمد حسن،دار القلم ـ بيروت .

[17] التاريخ الكبير:۲/۱۹۲،رقم:۲۲۲۰،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية 1429هـ .

[18] سؤالات البرذعي:ص:159،رقم:226،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱430هـ .

[19] سؤالات أبي عبيد الآجري:2/287،رقم:1873،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،مؤسسة الريان ـ بيروت، الطبعة الأولى1418هـ .

[20] الجرح والتعديل:2/500،رقم:2056،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعةالأولى۱۳۷۲هـ .

[21] الضعفاء والمتروكين:ص:163،رقم:99،ت،محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ .

[22] انظرإكمال تهذيب الكمال: 3/137،رقم:918،ت:أبو عبد الرحمن عادل بن محمد وأبو محمد أسامة بن إبراهيم، الفاروق الحديثة ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴22هـ .

[23] المجروحين:1/210،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[24] الأسامي والكنى:۲/۶۹،رقم:۱۰۷۵،ت:أبو عمر محمد بن علي الأزهري،الفاروق الحديثية ـ القاهرة، الطبعة الأولى۱۴36هـ .

[25] الكاشف في معرفة من له رواية في الكتب الستة:1/288،رقم:737،ت:محمد عوامه،دار القبلة للثقافة الإسلاميه ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴13هـ .

[26] المقتنى في سرد الكنى:1/113،رقم:707،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .

[27] تقريب التهذيب:ص:136،رقم:876،ت:محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ