التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابوعبداللہ محمد بن موسی بن ابراہیم اِصْطَخْری

ایک روایت میں تذکرہ

ابوعبداللہ محمد بن موسی بن ابراہیم اِصْطَخْری کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابوعبداللہ محمد بن موسی بن ابراہیم اِصْطَخْری کے بارے میں  ائمہ رجال  کا کلام

حافظ ابن حجر l ’’لسان الميزان‘‘[4] میں فرماتے ہیں: ’’شيخ مجهول، روى عن شعيب بن عمران العسكري خبرا موضوعا‘‘. یہ شیخ مجہول ہے، اس نے شعیب بن عمران عسکری کے انتساب سے ایک من گھڑت حدیث روایت کی ہے[5]۔

حافظ ابن نجارl نے زیر بحث حدیث کے علاوہ  ایک دوسری حدیث کو موضوع کہہ کر اس کے بعض راویوں کومجہول کہا ہے،ان میں محمد بن موسی اِصْطَخْرِی بھی ہے[6]۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[7] میں محمد بن موسی اِصْطَخْرِی کو وضاعین، کذابین اور متہم بالکذب جیسے راویوں کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’محمد بن موسى بن إبراهيم الإصطخري مجهول، روى خبرا موضوعا‘‘. محمد بن موسی بن ابراہیم مجہول ہے، اس نے ایک من گھڑت حدیث روایت کی ہے۔

حوالہ جات

[4] لسان الميزان:7/541،رقم:7475،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامیة ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

[5] اس من گھڑت  حدیث کا ذکر  ذیلی حاشیہ  میں آرہا ہے۔

[6] حافظ ابن نجار l کی ذکر کردہ من گھڑت حدیث اس عبارت میں ہے:’’(ز):محمد بن أحمد بن محمد بن إدريس أبو بكر البغدادي، روى عنه: أبو نصر السجزي أحاديث موضوعة، منها: قال: حدثنا محمد بن موسى بن إبراهيم الإصطخري، حدثنا شعيب بن عمران العسكري، حدثنا أحمد بن محمد الطالقاني، حدثنا آدم بن أبي إياس، عن ابن أبي ذئب، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما رفعه: لما عرج بي حبيبي جبريل إلى السماء بكت الأرض علي فنبت من بكائها الكبر فلما انحدرت تصببت بالعرق فلما سقط عرقي على وجه الأرض ضحكت الأرض فنبت من ضحكها الورد فمن أراد أن يشم رائحتي فليشم الورد. قال ابن النجار: هذا حديث موضوع، لا أصل له، ورواته من ابن إدريس إلى آدم مجهولون’’(لسان الميزان:۶/526،رقم:6422، ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتبة المطبوعات الإسلامیة ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ ) .

[7] تنزيه الشريعة المرفوعة:1/115،رقم:283،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1401هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

انہی روایات کے دیگر رواۃ

تمام رواۃ