اس روایت کی تحقیق سے
ہر صبح دس مرتبہ درود شریف:’’ أللّهم صل على محمد النبي..... ‘‘.پڑھنے پر تمام مخلوق کے درود کے برابر ثواب کا ملنا
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی ابورحمہ کادح بن رحمہ زاہد عرفی کوفی کے بارے میں
ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’ كان ممن يروي عن الثقات الأشياء المقلوبات، حتى يسبق إلى القلب أنه كان المتعمد لها، أو غفل عن الإتقان حتى غلب عليه الأوهام الكثيرة، فكثر المناكير في روايته، فاستحق بها الترك‘‘.
کادح ان لوگوں میں سے ہے جو ثقات سے مقلوب روایات نقل کرتے ہیں، یہاں تک کہ دل میں یہ بات آگئی کہ یہ ان مقلوب روایات کو عمداً لاتا ہے، یا یہ اتقان وپختگی سے کام نہیں لیتاحتی کہ اس پر اوہام کثیرہ کا غلبہ ہوگیا، اور اس کی روایات میں مناکیر زیادہ ہوگئیں، چنانچہ انہی مقلوب روایات کی بناپریہ ترک کا مستحق ہوا ہے۔
علامہ خطابی l فرماتے ہیں: ’’ كان كادح رفيقي عند جرير الرازي ستين ليلة، فلم أره وضع جنبه ليلا ولا نهارا‘‘[7].جریر رازی کے پاس ساٹھ راتیں کادح میرا رفیق رہا ہے، میں نے اسے نہیں دیکھا کہ اس نے شب وروز میں اپنا پہلو رکھا ہو۔
حافظ دار قطنی l نے کادح بن رحمہ کو ’’ لاشیء‘‘[8] کہا ہے۔
حافظ ابن عدی l کادح بن رحمہ کی روایات ’’الكامل‘‘[9] میں نقل کرکے فرماتے ہیں: ’’ولكادح غير ما أمليت أحاديث، وأحاديثه عامة ما يرويه غير محفوظة، ولا يتابع عليه في أسانيده، ولا في متونه، ويشبه حديثه حديث الصالحين، فإن أحاديثهم يقع فيها ما لا يتابعهم عليه أحد‘‘.
کادح کی جو روایات میں نے املاء کروائی ہیں اس کے علاوہ بھی اس کی احادیث ہیں، اور کادح بن رحمہ اکثر جو احادیث بیان کرتا ہے وہ محفوظ نہیں ہوتیں، اوران میں اس کی موافقت نہیں کی جاتی، نہ سند میں اور نہ ہی متن میں، اور اس کی بیان کردہ احادیث صالحین کے اقوال کے مشابہ ہوتی ہیں، کیونکہ اس کی احادیث میں ایسی اشیاء واقع ہوتی ہیں جس پر اس کی کوئی بھی متابعت نہیں کرتا۔
حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[10] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’قال الأزدي وغيره كذاب‘‘. ازدی l وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ کذاب ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’لسان الميزان‘‘[11] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’وقال الحاكم وأبو نعيم: روى عن مسعر والثوري أحاديث موضوعة‘‘. حاکم l وابو نعیم l نے فرمایا کہ کادح، مسعر l اور ثوری l کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[6] المجروحين:2/۲۲۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[7] الكامل:۷/ ۲۲۸،رقم:۱۶۱۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود و علي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[8] سؤالات السلمي للدارقطني:۲۷۱،رقم:۳۰۸،ت:سعد بن عبد الله الحميد وخالد بن عبد الرحمن الجريسی، مكتبة الملك فهد الوطنية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۲۷هـ .
[9] الكامل:۷/۲۳۰،رقم:۱۶۱۶،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[10] ميزان الاعتدال:۳/ ۳۹۹،رقم:۶۹۲۷،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[11] لسان الميزان:۶/۴۰۸،رقم:۶۱۹۷،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مکتبة المطبوعات الإسلامية ـ حلب .