اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’من صلى الفجر في جماعة، وخرج من المسجد فمر بعشرين نفسا فسلم عليهم، ثم مات في ذلك اليوم غفر له‘‘.جو شخص نمازِ فجر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، اور مسجد سے باہر جائے اوربیس افراد پر گزرتے ہوئے اُنھیں سلام کرے، پھر اگر یہ شخصاسی دن مرگیا تو اس کی بخشش ہوجائے گی۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)سند میں موجود راوی ابوبکر محمد بن عبد اللہ بن ابراہیم بن ثابت اشنانی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب l لکھتے ہیں: ’’وکان کذابا،یضع الحدیث‘‘[6] . یہ کذاب تھا، حدیث گھڑتاتھا۔
حافظ ابن جوزی l ’’الضعفاء والمتروکین‘‘[7] میں لکھتے ہیں: ’’قال الدارقطنی: کذاب، دجال ... ‘‘. دار قطنی l نے کہا ہے کہ وہ جھوٹا، دجال ہے۔۔۔ ‘‘۔
حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[8] میں لکھتے ہیں: ’’دجال، وضاع‘‘. یہ دجال ہے، حدیث گھڑنے والا ہے۔