ہزار حدیث بددینوں نے، اپنے فسق کے رواج دینے کو بنائی ہیں۔
تفصیل
’’۔۔۔ اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہزار حدیث بددینوں نے، اپنے فسق کے رواج دینے کو بنائی ہیں، سو اگر مُجِیب صاحب یا کوئی اور طرف دارِ مُجِیب، اس حدیث کو جو،اُوزْجَنْدِی سے نسبت کرتے ہیں، ثابت کریں، تو حسبِ قاعدۂ اصولِ حدیث ثابت کریں، ورنہ خاکِ مذلت[ذلت] اپنے سر پر ڈال کر، مصداق اس حدیث صحیح کے ہوں :
{من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار}. ترجمہ: جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں کرلے۔ ۔۔ ‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1] باقیات فتاویٰ رشیدیہ :رسوم سوم وچہلم وغیرہ کے متعلق ایک بدعتی عالم کے فتوے کا مفصل جواب، ص: ۱۰۱،دار الکتاب لاہور ۔
ملتی جلتی احادیث
’’اذان کے وقت انگوٹھے چومنے کے باب میں کوئی حدیث مرفوع صحیح نہیں ہوئی‘‘۔
حدیث میں ضعف اگر بسببِ فسق اور کذبِ راوی کے، یا بسبب اتہامِ وضع کے ہو، تو اس پر فضائل اعمال میں بھی عمل کرنا جائز نہیں ہے۔
’’آپ ﷺ کا روزِ قیامت ابو بکر r کودوزخ کے راستے پر،عمر r کو میزان پر،عثمان r کو حوضِ کوثر پر،علی r کودوزخ کے دروازے پر متعین کرنا تاکہ امتی جہنم میں نہ جائیں۔۔۔‘‘، اس من گھڑت روایت کا عقیدہ رکھنے والا فاسق، آگ کا مستحق ہے، اور اس پر کفر کا اندیشہ بھی ہے۔
’’حضرت غوث اعظم قدس سرہ کاایک روح کی واپسی کے لئے ملک الموت سے زبردستی تمام روحوں کی زنبیل چھیننا،
لوحِ محفوظ میں ایک عورت کی اولاد کے نہ ہونے کے فیصلہ کے باوجود حضرت عبدالقادر جیلانی l کااسے سات بچے دلوانا،
نیزحضرت عبد القادر جیلانی l کا منکر نکیر سے سوالات کرنا‘‘، ان تینوں حکایات کی کوئی اصل نہیں، یہ واضح کسی مُلْحِد کی بنائی ہوئی ہیں۔
’’میت کی بخشش کے لئے ایک لاکھ یا ستر ہزار مرتبہ کلمۂ طیبہ پڑھنے سے میت کی بخشش‘‘، یہ حدیث کتبِ صحاح ستہ، ’’مشکوٰۃ شریف‘‘ و’’دارمی شریف‘‘ و’’ مؤطا امام محمد‘‘ میں کہ ہندوستان میں کتبِ مشہور ہیں، کہیں موجود نہیں، اور حالِ صحت وغیرِ صحت بدون سند کے معتبر نہیں۔