روایت: گناہوں کو یاد کرکے غم زدہ ہوجانے والے کےلئے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر کی بشارت۔
حکم: حافظ عرا قیlفرماتے ہیں: ’’میں اس کی سند پر واقف نہیں ہو سکا ہوں‘‘، نیز علامہ سبکی lنے بھی اس روایت کو ان احادیث میں ذکر کیا ہے جن کی سند ان کو نہیں مل سکی ہے،چنانچہ معتبر سند ملنے تک اسے ہر گز بیان نہ کریں۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] قوت القلوب:2/283،ت:محمود إبراهيم محمد،مكتبة دار التراث ـ القاهرة،الطبعة الأولى1422هـ .
[2] غيث المواهب العلية في شرح الحكم العطائية:ص:148،ت:عبد الله سليم المختار،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[3] المغني عن حمل الأسفار:2/1140،رقم:4134،ت:أشرف بن عبد المقصود،مكتبة طبرية ـ الرياض، الطبعة الأولى1415هـ .
[4] طبقات الشافعية الكبرى:6/375،ت:عبد الفتاح محمد الحلو ومحمود محمد الطناحي،هجر للطباعة والنشر والتوزيع،الطبعة الثانية 1413هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: روزانہ بیس مرتبہ موت کو یاد کرنے سے روزِ قیامت شہداء کے ساتھ حشر۔
روایت: ’’جو شخص دن میں پچیس مرتبہ ’’اللهم بارك لي في الموت، وفيما بعد الموت‘‘ پڑھے گا،اللہ تعالی اسے شہیدوں جیسا اجر عطا فرمائیں گے اگرچہ اسے موت اپنے بستر پر ہی کیوں نہ آئے‘‘۔
روایت: ’’حضرت عائشہR نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ آپ کی امت میں کوئی ایسا بھی ہے جو بلاحساب وکتاب جنت میں داخل ہوگا؟ حضورﷺ نے فرمایا : ہاں جو اپنے گناہوں کویاد کر کے روتا رہے‘‘۔
روایت:’’اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا کرکے ان میں عقل رکھی، اور چوپایوں کو پیدا کرکے ان میں شہوت رکھی، اور بنی آدم کو پیدا کرکے اس میں عقل اور شہوت دونوں رکھی ہیں، تو جس کی عقل شہوت پر غالب آگئی وہ ملائکہ سے افضل ہے، اور جس کی شہوت عقل پر غالب آگئی وہ چوپایوں سے کمتر ہے‘‘۔
روایت: ’’درج ذیل کلمات پڑھنے پر حضور ﷺکی سفارش کہ حساب نہ لیا جائے، اور یہ کہ اللہ تعالی نے بخش دیا:
’’اللهم آمنّا في أوطاننا، وأصلحنا وأصلح ولاة أمورنا، اللهم صل على محمد كلما ذكره الذاكرون، وكلما غفل عن ذكره الغافلون‘‘. اے اللہ! ہمارے وطنوں کو امن کا گہوارہ بنا، اور ہمیں نیک بنا اور ہمارے حاکموں کو نیک بنا، اے اللہ! محمدﷺ پر رحمت کاملہ نازل فرما جب بھی یاد کرنے والے انہیں یاد کریں اور جب بھی غافل ہونے والے ان سے غافل ہوں‘‘۔