روایت: ’’نوم العالم عبادة ‘‘. عالم کاسونا بھی عبادت ہے۔
حکم: یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہیں،البتہ یہ مرفوع روایت (یعنی آپ ﷺ کا قول) درست ہے: ’’ علم کےساتھ سونا،جہالت کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے‘‘۔ذیل میں تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
تفصیل
رو ایت پر ائمہ حدیث کا کلام
حوالہ جات
[1] قوت القلوب: الفصل الثالث عشر، كتاب جامع.....، ۱/ ۶۳، ت: باسل عيون السود، دارالكتب العلمية - بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۷هـ .
[2] إحياء علوم الدين:۱/ ۷۶۳، ت: محمد وهبی سلیمان، دارالفکر - بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۲۷هـ..
[3] طبقات الشافعية: ۶/ ۲۸۷، ت: عبدالفتاح محمد الحلو، محمود محمد الطناجي، دار إحياء الكتب العربية ـ القاهرة، الطبعة: ۱۳۸۳هـ .
[4] إتحاف السادة: كتاب ترتيب الأوراد...، الباب الأول، ۵/ ۴۶۹، دارالكتب العلمية - بيروت، الطبعة الخامسة: ۱۴۳۳هـ .
[5] الأسرارالمرفوعة: ص: ۳۵۹، رقم:۵۶۷، ت: محمد بن لطيفي الصباغ، المكتب الإسلا می ـ بيروت، الطبعة الثانية: ۱۴۰۶هـ . =
= ملا علی قاریl آخر میں لکھتے ہیں:’’ففي الجملة من كان عالما فنومه عبادة، لأنه ينوي به النَشَاط على الطاعة، ومن هنا قيل: نوم الظالم عبادة، لأن تلك السِنَة عبادة بالنسبة إليه في ترك ظلمه‘‘.
[6] التيسير: حرف النون، ۲/ ۴۶۲، مكتبة الإمام الشافعي - الرياض، الطبعة الثالثة: ۱۴۰۸هـ .
[7] كشف الخفا: ۲/ ۳۹۴، رقم: ۲۸۶۵، ت: يوسف بن محمود، مكتبة العلم الحديث ـ دمشق، الطبعة: ۱۴۲۱هـ .
[8] إتحاف السادة المتقین: ۵/ ۴۷۰، دارالکتب العلمية ـ بيروت.
اس کے بعد حافظ مرتضی زَبِیدی l فرماتے ہیں:’’وقد يشهد للجملة الأولى ما رواه أبو نعيم في الحلية من حديث سلمان رضي الله عنه: نوم على علم خير من صلاة على جهل‘‘. اس حدیث سلمان r کا ذکر آرہا ہے۔
[9] حلية الأولياء: ۵/ ۸۳ ، دارالكتب العلمية - بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۹هـ .
[10] چند اہم فوائد
’’كشف الخفاء للعَجْلوني‘‘ میں بھی ایک مقام پر اسی طرح پیش آیا ہے،حافظ عجلونی l نے حدیث: ’’نوم العالم عبادة، وصَمْته تسبيح، وعمله مضـاعف، و دعائه مستـجاب‘‘ کو بحوالہ امام بیہقی l ، حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیr سےنقل کیا ہے،جبکہ امام بیہقی l کی ’’شعب الإيمان‘‘ میں یہ روایت ’’نوم الصائم عبادة ... ’’کے الفاظ سے ہے،اور یہی الفاظ (نوم الصائم عبادة ...) بحوالہ امام بیہقی l،علامہ علی متقی l نے ’’كنز العمال‘‘ میں نقل کیے ہیں،دیکھئے (كشف الخفاء:۲/۳۸۹،رقم:۲۸۳۹).قرین قیاس یہ ہے کہ حافظ عجلونی l ’’نوم العالم عبادة‘‘ کے علاوہ روایت میں موجود دوسرے الفاظ کو امام بیہقی l کی جانب منسوب کر رہے ہیں،واللہ اعلم۔
یہ بھی واضح رہے کہ ’’الفردوس بمأثور الخطاب‘‘ میں پہلے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی r سے روایت ’’نوم العالم عبادة، ونفسه تسبيح، وعمله مضاعف، و دعائه مستجاب، وذنبه مغفور‘‘. نقل کی گئی ہے،پھر اس سے متصل دو روایتوں بعد حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی r ہی سے یہ روایت ان الفاظ سے ذکر کی گئی ہے: ’’نوم الصائم عبادة ونفسه تسبيح وعمله مضاعف و دعائه مستجاب وذنبه مغفور‘‘. دیکھئے (الفردوس بمأثور الخطاب: ۴/۲۴۷، رقم:۶۷۳۱).اس کا اچھا حل وہی ہے جو امام مناوی l ،حضرت سہروردی l کی روایت پر کلام کرتے ہوئے فر ما چکے ہیں،یعنی: ’’اب یہ احتمال ہےکہ یہ(نوم العالم عبادة بھی مستقل ) ایک روایت ہو، اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان دو لفظوں(الصائم اور العالم)میں سےایک سبقت قلم کانتیجہ ہو‘‘۔نیز آپ جان چکے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی r کی روایت کو امام بیہقی l نے ’’شعب الإيمان‘‘میں تین مختلف سندوں سے تخریج کیا ہے، اور تینوں جگہ ’’نوم الصائم عبادة... ‘‘ کے الفاظ ہیں نہ کہ ’’نوم العالم عبادة‘‘.دیکھئے ( شعب الإيمان: ۵/۴۲۱،رقم:۳۶۵۲).
اس امر کا اظہار بھی ضروری ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی r سے منقول اس روایت ’’نوم الصائم عبادة ...‘‘. کا فنی حکم بیان کرنا اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے،اس لئے اس سے یہاں بحث نہیں کی جا رہی، واللہ اعلم۔
[11] حلية الأولياء: ۵/ ۸۳ ، دارالكتب العلمية - بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۰۹هـ .
[12] حلية الاولياء:۴/ ۳۸۵ ، دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴۰۹هـ .
[13] ذكر من لم يكن عنده إلا حديث واحد:ت: أبو عبد الله الباري رضا بو شامة ، دار ابن القيم ـ الرياض، الطبعة: ۱۴۲۵ هـ .
[14] سیرأعلام النبلاء:۱۶/ ۲۷۶، رقم:۱۹۶ ، ت: أکرم بوشي، موسسة الرسالة ـ بیروت .
[15] تاریخ الإسلام: ۲۳/ ۲۱۳، رقم: ۳۳۸، ت: عمر عبد السلام تدمري، دار الکتاب العربی ـ بيروت، الطبعة الأولى: ۱۴۳۳هـ .
[16] الكاشف: ۱/ ۲۰۴، رقم: ۹۷، ت: محمد عوامة،مؤسسة علوم القران - جدة.
[17] سیرأعلام النبلاء:۱۴/ ۲۵۱، رقم:۱۵۴ ، ت: أکرم البوشي، موسسة الرسالة ـ بیروت .
[18] الجرح والتعديل: باب من اسمه یحیى ۸/ ۱۲۴، رقم:۵۵۶ ، دار الكتب العلمية– بيروت، الطبعة الأولى: ۱۳۷۲ هـ .
[19] ہم امام اعمشl سے روایت کرنے والے اسماعیل نامی سات (۷) راویوں کے بارے میں ائمہ کا کلام مختصراً ذکر کر رہے ہیں، تاکہ کسی نہ کسی درجہ میں بات واضح ہوسکے:
۱- أبو زیاد إسماعیل بن زکریا الخُلْقَانی( ۱۹۴ هـ ) : حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’صدوق اختلف قول ابن معین فيه‘‘. صدوق ہے، ان کے بارے میں یحی بن معین l کے اقوال مختلف ہیں۔ (الکاشف:۱/ ۲۴۶، الرقم:۳۲۵)
۲- أبوإسحاق إسماعيل بن أبان الغَنَوِي الخياط( ۲۱۰هـ): ان کے بارے میں حافظ ابن حجر l لکھے ہیں:’’ قال البخاری: متروک، تركه أحمد والناس، وقال أبوزرعة وأبوحاتم: ترک حدیثه، وقال الجُوزجانی: ظهر منه الکذب، وقال النسائی: لیس بثقة‘‘. امام بخاری l کہتے ہیں: یہ متروک ہے، امام احمدl اور دوسرے لوگوں نے ان کو ترک کیا ہے، ابوزرعہ l اور ابوحاتم l کہتے ہیں: ان کی حدیثیں متروک ہیں، اور جوزجانی l کہتے ہیں: ان سے جھوٹ صادر ہوا ہے، اور امام نسائی l کہتے ہیں: یہ ثقہ نہیں ہے۔ ( تهذیب التهذیب: ۱/ ۱۳۸)
۳- إسماعیل بن إبراهیم الأحول أبو یحيى التَیْمِی الکوفی: ان کے بارے میں حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’قال محمد بن عبدالله بن نمیر: ضعیف جدا‘‘. محمد بن عبد اللہ بن نمیر l نے اسے شدید ضعیف کہا ہے۔ (میزان الاعتدال:۱/ ۲۱۳، رقم: ۸۲۹)
۴- إسماعیل بن عَیَّاش بن سُلیم العَنْسِی( ۱۸۱ هـ): حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’قال یزید بن هارون: مارأیت أحفظ منه، وقال دُحيم: هو في الشاميين غاية، و خلط عن المدنيين‘‘. میں نے ان سے بڑا ذہین کوئی نہیں دیکھا،دحیم l کا کہنا ہے کہ یہ شامی راویوں سے نقل کرنے میں پائے کے آدمی ہیں، البتہ مدینہ کے راویوں سے روایت کرنے میں انہیں خلط پیش آیا ہے۔ (الکاشف:۱/ ۲۴۹، رقم: ۴۰۰)
۵- إسماعیل بن مسلم المکی البصری: حافظ ذہبی l لکھتے ہیں: ’’وقال النسائی وغیره: متروک‘‘... ’’نسائی l وغیرہ نے اسے متروک کہا ہے ...‘‘۔ (میزان الاعتدال: ۱/ ۲۴۸، رقم: ۹۴۵)
۶- إسماعیل بن أبی خالد الکوفی البَجَلِی( ۱۴۶ هـ ) : حافظ ذہبیl لکھتے ہیں: ’’الحافظ، الإمام الكبير.... کان محدث الکوفة فی زمانه مع الأعمش، بل هو أسند من الأعمش‘‘. یہ حافظ، جلیل القدر امام ہیں ... اپنے زمانے میں امام اعمش l کے ساتھ کوفہ کے محدث تھے، بلکہ یہ اعمش l سے بڑھ کر سند والے تھے۔ (سیرأعلام النبلاء: ۶/ ۱۷۶، رقم: ۱۹۶)۔
۷- إسماعیل الکِنْدِی: ’’منکر الحدیث. قاله الأزدی‘‘.ازدی l نے ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے (لسان المیزان:۲/ ۱۸۸، رقم: ۱۲۷۲)۔
[20] سير أعلام النبلاء:۶/ ۱۷۶،رقم: ۱۹۶،ت: شعيب الأرنؤوط، مؤسسة الرسالة – بيروت،ط:۱۴۰۲ هـ .
[21] الکاشف:۲/ ۱۱۰، رقم:۲۱۳۲، ت: محمد عوامة، موسسة علوم القران – جده .
[22] یہاں ایک اہم تنبیہ ملحوظ رہے کہ امام مناوی l نے ’’حلية الأولياء‘‘کی مذکورہ سند میں موجود ابو البختری کے بارے میں لکھا ہے کہ حافظ دحیم l نے اسے کذاب کہا ہے،دیکھئے (فيض القدير: ۶/ ۲۹۱، رقم:۹۲۹۴)، امام مناوی l کی یہ بات محل نظر ہے،کیونکہ یہ ابو البختری سعید بن فیروز ہے جیسا کہ خود حافظ ابو نعیم اصبہانی l نے اس روایت کو ابو البختری سعید بن فیروز کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے،رہی بات ابو البختری کذاب کی جسے امام دحیم l نیز امام احمد بن حنبل l،حافظ اسحاق بن راہویہ l، حافظ یحیی بن معین l، حافظ ابو حاتم l نے کذاب کہا ہے اس کا نام وہب بن وہب بن کثیرالقرشی القاضی(المتوفی ۲۰۰ھ)ہے،دیکھئے (الجرح والتعديل: ۹/ ۲۵، رقم: ۱۱۶).
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من امتشط قائما ركبه الدين‘‘.
ترجمہ: کھڑے ہو کر کنگی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔
جس نے عالم کی توہین کی اس نے اللہ کی توہین کی
وضوء کے بعد : ’’ إنا أنزلناه فى ليلة القدر‘‘پڑھنے كے مختلف فضائل
روایت: ’’إذاسلِم رمضان سلِمت السنة، وإذا سلِمت الجمعة سلِمت الأيام ‘‘.
اگر رمضان شریف ٹھیک رہا،تو پورا سال ٹھیک رہےگا، اور اگر جمعہ ٹھیک رہا تو پورا ہفتہ ٹھیک رہے گا۔
روایت: ’’الدنيا مزرعة الآخرة‘‘.دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔