[حضرات محدثین رکاکت ِلفظی ورکاکتِ معنوی سے جعلی احادیث کو پہچاننے کا ایک خاص ملکہ رکھتے ہیں،نیز لفظی،معنوی رکاکت کیا ہے؟]
’’سوال: رکاکت کا کیا مطلب ہے؟ محدثین اس سے کیا مراد لیتے ہیں؟
تفصیل
جواب: رکاکت کا مطلب یہ ہے کہ کلام میں کلام نبوت کی بلاغت وجزالت نہ ہو۔
حافظ سخاوی l ’’شرح الفیہ‘‘ (۱۱۳) میں رکاکت کی تفسیر فرماتے ہیں:
’’أي: الضعف من قوة فصاحته ﷺ في اللفظ والمعنى معا، مثل مايروی في وفاة النبي، وكذا في أحدهما، ولكنه في اللفظ مقيد بما إذا صرح بأنه لفظ الشارع ولم يحصل التصرف في نقله، لاسيما إن كان لاوجه في الإعراب.
وقد روی الخطيب وغيره من طريق الربيع بن خيثم التابعي الجليل، قال: إن للحديث ضوء كضوء النهار يعرف، وظلمة كظلمة الليل تنكر، ونحوه قول ابن الجوزي: الحديث المنكر يقشعر منه جلد طالب العلم وينفر منه قلبه في الغالب.
[قال السخاوي] وعنى بذلك الممارس لألفاظ الشارع، الخبير بها وبرَوْنَقِها وبَهْجَتِها، ولذا قال ابن دقيق العيد: وكثيرا مايحكمون بذلك أي: بالوضع باعتبار أمور ترجع إلى المروي وألفاظ الحديث، وحاصله يرجع إلى أنه حصلت لهم لكثرة محاولة ألفاظ النبي صلى الله عليه وسلمهيئة نفسانية وملكة قوية يعرفون بها مايجوز أن يكون من الفاظ النبوة ومالايجوز، انتهى [أي: كلام ابن دقيق العيد].
[قال السخاوي] والركاكة في المعنى كأن يكون مخالفا للعقل ضرورة أو استدلالا ولايقبل تأويلا بحال، نحو الأخبار عن الجمع بين الضدين وعن نفي الصانع وقدم الأجسام وما أشبه ذلك، لأنه لايجوز أنْ يَرِدَ الشَرْعُ بما ينافي مقتضى العقل، قال ابن الجوزي: وكل حديث رأيته يخالف العقول أو يناقض الأصول فاعلم أنه موضوع، فلايتكلف اعتباره.
[قال السخاوي] أي: لاتعتبر رواته ولاتنظر في جرحهم.
[قال السخاوي] أو يكون مما يدفعه الحس والمشاهدة أو مباينا لنص الكتاب أو السنة المتواترة أو الاجماع القطعي حيث لايقبل شيء من ذلك التأويل، أو يتضمن الأفراد [كذا في الأصل، والصحيح الإفراط] بالوعيد الشديد على الأمر اليسير، وبالوعد العظيم على الفعل اليسير، وهذا الأخير كثير موجود في حديث القصاص والطرفیة [کذا في الأصل، والصحیح: والطرقية]، ومن ركة المعنى: لاتأكلوا القرعة حتى تذبحوها، ولذا جعل بعضهم ذلك دليلا على كذب راويه، انتهى‘‘[1].
[(بعض اوقات وضع کو رکاکت سے پہچانا جاتا ہے) یعنی (ذکر کردہ روایت میں)آپ ﷺ کی قوت ِفصاحت لفظ ومعنی دونوں میں کمزور ہو، جیسا کہ وہ حدیث جو نبی ﷺ کی وفات کے بارے میں مروی ہے، اسی طرح یہ کمزوری لفظ ومعنی میں سے کسی ایک کے لحاظ سے ہو، لیکن لفظ میں یہ قید ہے کہ یہ صراحت کی گئی ہو کہ یہ شارع کے الفاظ ہیں اور اس کے نقل کرنے میں کوئی تبدیلی پیش نہیں آئی ہے، خصوصاً جبکہ اس میں اعراب کی کوئی وجہ نہ ہو۔
خطیب l وغیرہ نے جلیل القدر تابعی ربیع بن خیثم l سے نقل کیا ہے کہ حدیث کے لئے روشنی ہے دن کی جانی پہچانی روشنی کی طرح، اور تاریکی ہے غیر مانوس رات کی تاریکی کی مانند، اور ابن جوزی l کا ایک ارشاد بھی اسی طرح ہے: منکر حدیث سے طالب علم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور اکثر اس کا دل اس سےمتنفر ہوجاتا ہے۔
(حافظ سخاوی l فرماتے ہیں) ابن جوزی l کی مراد وہ طالب علم ہے جسے شارع کے الفاظ سے ممارست ہو، ان الفاظ اور ان کی رونق وشادابی سے خوب باخبر ہو، اور یہی وجہ ہے کہ ابنِ دقیق العید l فرماتے ہیں: محدثین اکثر ایسے امور کی بناء پر حدیث کے موضوع ہونے کا حکم فرماتے ہیں، جن کا مرجع روایت اور الفاظ حدیث ہوتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ان محدثین کو نبی ﷺ کے الفاظ سے کثرتِ ممارست کی وجہ سے ایک داخلی کیفیت اور قوی ملکہ حاصل ہوجاتا ہے جس سے یہ لوگ پہچان لیتے ہیں کہ یہ حدیث الفاظِ نبوت ہوسکتے ہیں اور یہ حدیث الفاظِ نبوت نہیں ہوسکتے، ابنِ دقیق العید l کا کلام مکمل ہوا۔
(حافظ سخاوی l مزید فرماتے ہیں) رہی بات معنوی رکاکت کی، یوں کہیں کہ (وہ یہ ہے کہ) روایت بدیہی یا استدلالی طور پر عقل کے مخالف ہو، اور وہ کسی بھی صورت میں تاویل کو قبول کرنے والی نہ ہو، جیسے جمع بین الضدین، صانع کی نفی،جسموں کا قدیم ہونا اور ان جیسی روایات،کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ شریعت مقتضی عقل کے خلاف کوئی چیز پیش کرے۔
(حافظ سخاوی l فرماتے ہیں) ابن جوزی l فرماتے ہیں: آپ کسی حدیث کو دیکھیں کہ یہ عقل کے خلاف ہے، یا اصول شکن ہے تو جان لو کہ یہ من گھڑت ہے، سو اس کے’’اعتبار‘‘ میں تکلف نہیں کیا جائے گا۔
(حافظ سخاوی l فرماتے ہیں) یعنی نہ تو راویوں کے ’’اعتبار‘‘ میں پڑو، اور نہ ان کی جرح تلاش کرو۔
(یہاں تک تو روایت کے عقل واصول کے خلاف ہونے کی بات ہوگئی، نیز یہ بھی معنوی رکاکت ہے) یا حس ومشاہدہ اس روایت کے لیے مانع ہو، یا پھر روایت کتاب اللہ یا سنت متواترہ یا اجماع امت کے اس طور پر خلاف ہو کہ کسی بھی قسم کی تاویل سے اسے قبول نہ کیا جاسکتا ہو، یا پھر روایت ہلکے گناہ کے نتیجہ میں سخت دھمکی یا چھوٹے عمل پر بہت بڑی فضیلت پر مشتمل ہو، اور یہ آخری صورت قصہ گو لوگوں کی احادیث میں بکثرت موجود ہے، اور معنوی رکاکت کی ایک مثال یہ روایت ہے: ’’لاتاكلوا القرعة حتی تذبحوها‘‘. [کدو نہ کھاؤ، یہاں تک کہ اسے تم ذبح کرلو] ایک محدث نے اس معنوی رکاکت کو اس روایت کے راوی کے جھوٹ بولنے پر دلیل بنایا ہے(حافظ سخاوی l کا کلام مکمل ہوا]۔
حوالہ جات
[1] الیواقیت الغالیہ: محدثین کے یہاں رکاکت کا مفہوم کیا ہے؟ ۱/۱۶۴۔