روایت: ’’ لأنين المذنبين أحب إلي من زجل المسبحين‘‘.
باری تعالی کا ارشاد ہے کہ گناہ گار بندوں کا رونا مجھے زیادہ محبوب ہے تسبیح پڑھنے والوں کی سبحان اللہ سے۔
حکم:یہ روایت سندا ً بطور حدیثِ قدسی نہیں ملتی، البتہ یہ مضمون سنداً شیخ ابو علی، صاحبِ عبداللہ جَبَلی l کے قول کے طور پر ملتا ہے، اس لیے اسے صرف شیخ ابو علی، صاحبِ عبداللہ جَبَلی l کے قول کے طور پر بیان کرنا چاہئے۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’من أكرم حبيبته وفي رواية كريمتيه لايكتب بعد العصر‘‘. جوشخص اپنی محبوب چیز، اور ایک روایت میں ہے دو مکرم چیزوں (یعنی آنکھوں) کا اکرام کرنا چاہے تو وہ عصر کی نماز کے بعد نہ لکھے۔
’’میں علم کا شہر ہو ں ،ابوبکرr اس کی بنیاد ،عمر r اس کی دیوار، عثمانr اس کی چھت اور علی r اس کا دروازہ ہیں‘‘۔
بعض روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’معاویہ r اس کا حلقہ ہے ‘‘ ۔
حکایت:حضرت بلال r کا نبی ﷺ کو خواب میں دیکھ کر دمشق سے مدینہ آنا، پھر اذان دینا اور مدینہ والوں کی آہ وبکا۔
روایت: کسی عالم کی مجلس میں حاضر ہونا ایک ہزار جنازوں، ایک ہزار رکعتوں اور ایک ہزار مریضوں کی عیادت کرنے سے افضل ہے۔
’’أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، وكلام أهل الجنة عربي‘‘. ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ عربوں سے تین باتوں کی وجہ سےمحبت کیا کرو، کیونکہ میں عربی ہوں، قرآن عربی میں ہے اور جنت والوں کی زبان عربی ہوگی‘‘۔