روایت: حدیث قدسی ہے: ’’عبدي أنا لك محب، فبحقي عليك كن لى محبا‘‘.اے میرے بندے! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تجھ پر میرے حق کی قسم ہے کہ تو (بھی) مجھ سے محبت کر۔
تفصیل
زیر بحث روایت حدیثِ قدسی کے طور پر نہیں ملتی، تاہم علامہ عارف باللہ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری l نے ’’لطائف الإشارات‘‘[1] میں یہ روایت ’’وفی بعض الکتب المنزلۃ علی الانبیاء‘‘ کہہ کر ذکر کی ہے، ملاحظہ ہو:
’’وفي بعض الكتب المنزلة على الأنبياءعليهم السلام: عبدي أنا لك محب، فبحقي عليك كن لي محبا‘‘.
اور انبیاء m پر نازل شدہ بعض کتب میں ہے: اے میرے بندے! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں، تجھ پر میرے حق کی قسم ہے کہ تو مجھ سے محبت کر۔
حوالہ جات
[1] لطائف الإشارات:2/241،ت:إبراهيم البسيوني،الهيئة المصرية العامة للكتاب ـ مصر .
[2] إحياء علوم الدين:۴/2۹۶،دار المعرفة ـ بيروت .
’’احیاء‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وفي بعض الكتب: عبدي أنا وحقك لك محب، فبحقي عليك كن لي محبا‘‘.
[3] المنثور:ص:65،ت:هلال ناجي،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى1994ء .
’’المنثور‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’يا آدم! أنا وحقي لك محب، فبحقي عليك كن لي محبا‘‘.
[4] مفاتيح الغيب:4/227،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى1401هـ .
[5] الفتوحات المكية:۸/۳۵۱،ت:أحمد شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1420هـ .
’’فتوحات مکیہ‘‘ کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’وصايا إلهية من التوراة: روينا من حديث كعب الأحبار أنه قال: وجدت في التوراة اثتني عشرة كلمة فكتبتها وعلقتها في عنقي أنظر فيها في كل يوم إعجابا بها: يا ابن آدم! إن رضيت بما قسمت لك أرحت قلبك وبدنك وأنت محمود، وإن لم ترض بما قسمت لك سلطت عليك الدنيا حتى تركض فيها ركض الوحش في البرية، ثم وعزتي وجلالي! لا تنال منها إلا ما قدرت لك وأنت مذموم، يا ابن آدم! كل يريدك له، وأنا أريدك لك، وأنت تفر مني، يا ابن آدم! ما تنصفني، يا ابن آدم! خلقتك من تراب ثم من نطفة ولم يعيني خلقك، أفيعييني رغيف أسوقه إليك في حين، يا ابن آدم! إني وحقي لك محب، فبحبي عليك كن لي محبا، يا ابن آدم! خلقتك من أجلي وخلقت الأشياء من أجلك، فلا تهتك ما خلقت من أجلي فيما خلقت من أجلك، يا ابن آدم! كما لا أطالبك بعمل غد لا تطالبني برزق غد، يا ابن آدم! لي عليك فريضة، ولك علي رزق، إن خنتني في فريضتي لم أخنك في رزقك على ما كان منك، يا ابن آدم! لا تخافن قوت الرزق ما دامت خزانتي مملوءة لا تنفد أبدا، يا ابن آدم! لا تخافن من ذي سلطان ما دام سلطاني باقيا، وسلطاني باق لا ينفد أبدا، يا ابن آدم! لا تأمن مكري حتى تجوز على الصراط‘‘.
[6] كتاب النبوات:1/368،ت:عبد العزيز بن صالح الطويان،أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى1420هـ .
’’النبوات‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وفي أثر آخر: يا عبدي! وحقي إني لك محب، فبحقي عليك كن لي محبا‘‘.
[7] روضة المحبين:ص:410،ت:أحمد شمس الدين،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1424هـ .
’’روضۃ المحبین‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’وفي بعض الآثار الإلهية: عبدي أنا وحقك لك محب، فبحقي عليك كن لي محبا‘‘.
[8] المستطرف في كل فن مستظرف:1/۱۰۷،دار مكتبة الحياة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[9] من صحاح الأحاديث القدسية:ص:10،دار المنهاج ـ جده،الطبعة الخامسة۱۴32هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: حدیث قدسی ہے: ’’عبدي كل يريدك لنفسه، وأنا أريدك لك‘‘. اے میرے بندے! ہر کوئی تجھے اپنے لئے چاہتا ہے اور میں تجھے صرف تیرے لئے پسند کرتا ہوں۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ كاد الحليم أن يكون نبيا‘‘. قریب ہے کہ حلیم(برد بار) نبی ہوتا‘‘۔
روایت: حضرت عمرr ایک مجلس میں بیٹھے فیصلے فرمارہے تھے کہ اسی دوران ایک نوجوان کو دو نوجوان خوبصورت لباس پہنے گھسیٹ کر لائے، اور کہا کہ ہمارے والد باغ میں کام کر رہے تھے، اس شخص نے ہمارے والد کو قتل کردیا ہے، ہمیں قصاص چاہئے، حضرت عمر r کے پوچھنے پر اس نوجوان نے قتل کا اقرار کیا، اور قتل کرنے کی وجہ بیان کی، پھر نوجوان نے حضرت عمر r سے تین دن کی مہلت مانگی کہ میرے پاس میرے بھائی کی امانت رکھی ہوئی ہے، میں اس کو واپس کرکے آتا ہوں، حضرت عمر r نے حاضرین مجلس سے پوچھا کہ اس کی کوئی ضمانت لیتا ہے، پھر نوجوان کا حضرت ابو ذرr کو اپنا کفیل بنانا، تیسرے دن حضرت عمر r نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر نوجوان نے تاخیر کی تو میں ابو ذر r سے متعلق وہ کر گزروں گا جس کا اسلامی شریعت تقاضہ کرتی ہے، حاضرین لمبی لمبی سانس لینے لگے، شور وشغب بڑھ گیا، ہچکیاں بڑھ گئیں،بڑے صحابہ p نے ان دو نوجوانوں کو دیت کی پیش کش کی، لیکن وہ دونوں مقتول کے خون کا بدلہ لینے پر ہی اصرار کرتے رہے، چنانچہ صحابہ p بے چین ہوگئے، اور ابو ذر rپر افسوس کرتے ہوئے چیخ وپکار کرنے لگے، اچانک وہ نوجوان آگیا، پھر ان دو نوجوانوں نے اپنے والد کے قاتل کو معاف کردیا۔
روایت: ’’رسول اللہ s نے فرمایا: مسواک میں دس فائدے ہیں: منہ کو صاف کرتی ہے، اور اللہ کو راضی کرنے کا سبب ہے، اور شیطان کو ناراض کرتی ہے، اور فرشتوں کی محبوب چیز ہے، اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے، اور منہ کو خوشبو دار بنا تی ہے، اور بلغم کو ختم کرتی ہے، اور کڑواہٹ کو زائل کرتی ہے، اور نگاہ کو تیز کرتی ہے، اور سنت کی موافقت کرتی ہے‘‘۔