شرائطِ ثلاثہ کا تاریخی وعملی پس منظر
تفصیل
جمہور علماء کے نزدیک، فضائل کے باب میں ضعیف حدیث پرعمل کرنا جائز ہے، البتہ اس جوازِ عمل کے لئے تین بنیادی شرائط ہیں،جن کو حافظ سخاویl نے ’’القَولُ البَدِیع‘‘[1] میں ذکر کیا ہے، موصوف فرماتے ہیں:
’’میں نے اپنے شیخ حافظ ابن حجرl سے کئی دفعہ سنا ہے - حافظ ابن حجرl نے مجھے اپنی تحریر سے یہ شرائط لکھ کر بھی دیں - ضعیف حدیث پر عمل کرنے کے لئے تین شرائط ہیں: پہلی شرط اتفاقی ہے کہ ضُعف شدید نہ ہو، لہذا اس شرط سے وہ کذّابین، متہّمین اور فاحش الغلط راویانِ حدیث نکل گئے ،جو نقلِ روایت میں تنہا ہوں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ وہ روایت،دین کے اصلِ عام کے تحت داخل ہو، اس شرط سے وہ روایتیں نکل گئیں، جو گھڑی گئی ہوں،اس طور پر کہ اس کی کوئی اصل نہ ہو۔
تیسری شرط یہ ہے کہ حدیث پر عمل کرتے وقت ثبوتِ حدیث کا اعتقاد نہ ہو، تاکہ آپﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جائے جو آپ ﷺ نے نہ فرمائی ہو‘‘۔
حافظ ابن حجرl نے مزید فرمایا کہ آخری دو شرطیں ابن عبد السلامl اور ابن دقیق العیدl سے منقول ہیں، اور شرطِ اول پر علامہ علائی l نے علماء کا اتفاق نقل کیا ہے۔
ذیل میں ہم شرائطِ ثلاثہ کا فنی جائزہ پیش کریں گے:
شرطِ اول کا جائزہ:
حوالہ جات
[1] القول البديع:خاتمة:۴96،ت:الشيخ محمد عوامة،دار اليسر ـ المدينة المنورة،الطبعة الثانية1428هـ .
[2] تنزيه الشريعة:1/10،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية1401هـ .
[3] نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر:المنكر،ص:112،ت:عبد الله بن ضيف الله الرحيلي،مطبعة سفير ـ الرياض،الطبعة الأولى1422هـ .
[4] شرح علل الترمذي:الغلط الذي يرده به الراوي أو يترك:1/399 ،ت:همام عبد الرحيم سعيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1421هـ .
[5] شرح علل الترمذي:الغلط الذي يرده به الراوي أو يترك:1/399 ،ت:همام عبد الرحيم سعيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1421هـ .
[6] شرح علل الترمذي:رواية الضعفاء والرواية عنهم:1/371 ،ت:همام عبد الرحيم سعيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1421هـ .
[7] شرح علل الترمذي:الراوية عن الضعفاء من أهل التهمة بالكذب والغفلة وكثرة الغفلة:1/387 ،ت:همام عبد الرحيم سعيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة1421هـ .
[8] شرح النووي على الصحيح لمسلم:الكشف عن معايب رواة الحديث:1/251،الطبعة المصرية ـ الأزهر،الطبعة الأولى1347هـ .
[9] توضيح الأفكار:2/82 ،ت:صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1417هـ .
[10] القول المسدد الحديث الثامن:1/27،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة،الطبعة الأولى1401هـ .
[11] تقريب التهذيب:ص:475،رقم:7336،ت:شيخ محمد عوامة،دار الرشيد ـ سوريا،الطبعة الرابعة۱۴18هـ .
[12] إحكام الأحكام:باب فضل الجماعة ووجوبها:1/122،ت:شيخ مصطفى،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الأولى۱۴26هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’اگر میں اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو اس حالت میں پاؤں کہ میں عشاء کی نماز میں مشغول ہوں اور سورۂ فاتحہ پڑھ چکا ہوں، اسی دوران میری والدہ مجھے پکار کر کہے: اے محمد! تو میں جواب میں اپنی والدہ سے کہوں گا: حاضر ہوں!‘‘۔
روایت: ’’جو شخص ’’لا إله إلّا اﷲ‘‘ کہے اور اسے کھینچ کر پڑھے (یعنی لمبا کرے) تو اس شخص کے چار ہزار گناہ کبیرہ ختم (یعنی معاف)ہوجاتے ہیں‘‘۔
روایت: نورِ محمدی ﷺ سے اندھیرے میں گمشدہ سوئی کی چمک۔
روایت: ایک مؤمن عورت کی نیکی ستر صدیقین کے عمل کی طرح ہے، اور ایک فاجر عورت کی برائی ہزار فاجر مردوں کی طرح ہے۔
روایت: ماں کی نافرمانی پر بیٹے کی حالت ِنزع میں کلمہ سے محرومی۔