روایت: حضرت فاطمہ R کا اپنی اور غیر محرم مردوں کی نگاہ کے چاند پر اکٹھا ہونے کی وجہ سے پہلی تاریخ کا چاند نہ دیکھنا۔
تفصیل
ایک دفعہ چاند کی پہلی تاریخ تھی، حضرت فاطمہ R نبی اکرم ﷺ کے ہاں تشریف لے آئیں، آپ ﷺ نے پوچھا: اے فاطمہ! کیا آپ نے چاند دیکھا ہے؟ حضرت فاطمہR نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! میں نے چاند نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے بیٹی! آپ نے چاند کیوں نہیں دیکھا؟ حضرت فاطمہ R خاموش ہوگئیں، نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ پوچھا، تو حضرت فاطمہ R نے جواب دیا: اے ابا جان! میرے دل میں خیال آیا کہ آج پہلی کا چاند ہے، سب لوگ چاند کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، اگر میں بھی دیکھوں گی تو میری نگاہیں اور غیر محرم مردوں کی نگاہیں چاند کے اوپر اکٹھی ہوجائیں گی، میں نے اس بات کو شرم وحیاء کے خلاف پایا، اس لئے میں نے آج چاند نہیں دیکھا۔
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی اجنبی (غیر محرم) عورت کی طرف دیکھا تو قیامت کے دن اس کی آنکھ میں انگارے ڈالے جائیں گے، اور ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ اس کی آنکھ میں قیامت کے دن فرشتے لوہے کی سلاخیں ڈالیں گے‘‘۔
روایت:’’ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! مجھے اپنی بیوی پر بھروسہ نہیں ہے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تو اپنی نگاہیں غیروں کی عورتوں سے محفوظ کرلے اللہ تعالی تیری بیوی کی حفاظت فرمائیں گے‘‘۔
روایت: شہد کی مکھیوں کا آپ ﷺ کو یہ بتانا کہ ہم پھلوں کا رس چوستے وقت آپﷺ پر درود بھیجتی ہیں، جس کی وجہ سے شہد میں مٹھاس پیدا ہوجاتی ہے۔
روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص چار سو مرتبہ پڑھے تو اس کے لئے چار سو شہیدوں کا ثواب لکھا جائے گا، ان میں ہر شہید ایسا ہوگا جس کا گھوڑا ذبح کردیا گیا ہواور اس کا خون بھی بہایا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص اس کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے تو اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا مقام جنت میں نہ دیکھ لے، یا جب تک اس کو جنت میں اس کا مقام نہ دکھلادیا جائے‘‘۔