روایت:’’حضرت علی r فرماتے ہیں: جب نبیﷺ نے میری آنکھوں میں لعاب ڈالا تو مجھے شام کی پہاڑیاں مدینہ سے نظر آنے لگیں‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] صحيح البخاري:4/۴۷،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى1422هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’کمیل بن زیاد lفرماتے ہیں: میں ایک مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب r کے ساتھ نکلا، جب آپ ایک جنگل پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے قبر والو! اے آزمائش والو! اے وحشت والو! تمہاری کیا خبر ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ (تمہارے جانے کے بعد تمہارے) اموال تقسیم ہوگئے، اولادیں یتیم ہوگئیں، بیویوں نے دوسرے خاوند کرلیے، بس یہی ہماری خبر ہے،تمہاری کیا خبر ہے؟ پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے، اے کمیل! اگر ان کو جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے: ’’بے شک بہترین زادِ راہ تقوی ہے‘‘، پھر رونے لگے اور مجھ سے فرمایا: اے کمیل!قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا‘‘۔
روایت: حضرت عثمان r فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے’’ لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ‘‘کی تفسیر کے متعلق پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس کی تفسیر ’’لاالہ الااللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ، الحمد للہ، استغفر اللہ، لا حول ولا قوۃ الاباللہ، الاول والآخر، والظاہر والباطن،بیدہ الخیر، یحیی ویمیت،وہو علی کل شیء قدیر‘‘ ہے۔
روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
روایت: ’’حضرت اویس قرنیl کا آپﷺ کی موافقت میں اپنے دانت توڑنا‘‘، نیز اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی زبان زدِ عوام ہے کہ ’’دانت نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کے لئے کیلے کا درخت اگایا‘‘ ۔
روایت: ’’أبو الدرداء من الفقهاء العلماء الذين يشفون من الداء‘‘. ابو درداء r ان فقہاء علماء میں سے ہیں، جو لوگوں کو بیماری سے شفاء دیتے ہیں۔