التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342
طائرانہ نظر
کتاب کا نام: غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ دہم)

روایت: جو شخص جمعہ کے دن درود پڑھتا ہے اس کے درود کو نبی ﷺخود سنتے ہیں۔

حکم: حافظ سخاویl فرماتے ہیں:’’اگر اسےاس کے ظاہر پر حمل کیا جائے تو میں اس کی کسی دلیل کو نہیں جانتا‘‘، اور علامہ زرقانی lنے حافظ سخاویl کا قول ان الفاظ سے نقل کیا ہے: ’’جب درود پڑھنے والا نبی sکی قبر کے پاس درود پڑھے تو آپ ﷺ بلا واسطہ اس کو سنتے ہیں، چاہے جمعہ کی رات ہو یا اس کے علاوہ ہو، اور بعض خطباء اور ان جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ اس دن جو شخص نبی s پر درود پڑھتا ہے تو آپs اسے اپنے کانوں سے بذاتِ خود سنتے ہیں، (خطباء کی) اس بات کو قریب پر حمل کرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی مفہوم نہیں بنتا (یعنی یہ سننا جمعہ اور اس کے علاوہ میں بھی ہوتا ہے، تو پھر جمعہ کو خاص طور پر ذکر کرنے کا کوئی معنی نہیں بنتا)، انتہی‘‘، الحاصل اس روایت کو مذکورہ سیاق والفاظ کے ساتھ آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔

تفصیل

حوالہ جات

[1] الأجوبة المرضية:۳/۹۳۱،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .

[2] امام طبرانی lکی مطبوع کتب میں یہ روایت نہیں مل سکی، البتہ حافظ ابن قیم l نے ’’جلاء الافہام‘‘ میں یہ روایت امام طبرانیl کے حوالہ سے ذکر کی ہے، ملاحظہ ہو:’’قال الطبراني: حدثنا يحيى بن أيوب العلاف، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة، فإنه يوم مشهود، تشهده الملائكة، ليس من عبد يصلي علي إلا بلغني صوته حيث كان، قلنا: وبعد وفاتك؟ قال:وبعد وفاتي، إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء‘‘.(جلاء الأفهام في فضل الصلاة على محمد خير الأنام:ص:127،ت:شعيب الأرناؤوط وعبد القادر الأرناؤوط،دار العروبة ـ الكويت،الطبعة الثانية۱۴07هـ) .

[3]  شرح الزرقاني على المواهب:12/203،ت:محمدعبدالعزيزالخالدي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1417هـ .

[4] المستدرك على الصحيحين:۴/۶۰۴،رقم:۸۶۸۱ ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .

[5] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/560،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت  .

ملتی جلتی احادیث