روایت: ’’جس نے اپنے بھائی کے حق کی وجہ سے افطار کیا اس کےلئے ایک ہزار روزوں کا ثواب لکھا جاتا ہے‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الفتاوى التاتارخانیة:3/402،رقم:4694،ت:مفتي شبیر أحمد قاسمی،مکتبة زکریا بدیوبند ـ الهند،الطبعة الأولى ۱۴۳۱هـ .
[2] الفتاوى الولوالجية:1/226،ت:مقداد بن موسى فريوي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1424هـ .
[3] الجوهرة النيرة:1/347،ت:إلياس قبلان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[4] جامع المضمرات:2/473،ت:عمر عبد الرزاق حمد الفياض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1439هـ .
[5] مفتاح الجنان:ص:203،المطبعة العثمانية،الطبعة1317هـ .
[6] مراقي الفلاح:ص:253،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴24هـ .
[7] انظر درر الحكام:1/210،مير محمد كتب خانة ـ كراتشي ـ باكستان .
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس شخص نے بھی کسی اجنبی عورت کی طرف شہوت کی نگاہسے دیکھا، تو قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
روایت: ’’ إن الدانق من الفضة يؤخذ به يوم القيامة سبعمائة صلاة مقبولة فتعطى إلى الخصم‘‘. چاندی کے ایک دانق کے بدلہ قیامت کے دن سات سو مقبول نمازیں لے کر مد مقابل کو دے دی جائیں گی۔
روایت:جنازے کی آخری صف افضل ہے۔
روایت: جس نے دس محرم کے دن اثمد سرمہ لگایا تواس کی آنکھ کبھی نہیں دکھے گی۔