روایت: ’’اگر موسیٰ e اور عیسیٰ e زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری تابعداری کے سوا چارہ کار نہیں ہوتا‘‘، اس حدیث میں حضرت عیسیٰ e کا ذکر غلط ہے۔
تفصیل
’’سوال: ×لو كان موسى وعيسى حيين .... ÷. [اگر موسیٰ e وعیسیٰ e زندہ ہوتے۔۔۔۔] کی تخریج۔
جواب: ×حديث: لو كان موسى وعيسى عليهما السلام حَيَّيْن لما وَسِعَهما إلا اتباعي÷. [اگر موسیٰ e وعیسیٰ e زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری اتباع کے علاوہ چارہ کار نہ ہوتا]اس حدیث میں حضرت عیسیe کا ذکر غلط ہے، اور یہ غلطی حافظ ابن کثیر l کو ہوئی، انہوں نے بے حوالہ یہ روایت اپنی تفسیر(ص: ۳۷۸) میں لکھی ہے یعنی اصل لفظ: ×لو كان موسى حيا ما وسعه إلا اتباعي÷. [اگر موسیٰ e زندہ ہوتے تو انہیں بھی میری اتباع کے سوا چارہ کار نہ ہوتا] ہے[1]۔
×رواه أحمد والبيهقي في شعب الإيمان، كذا في المشكوة÷ (ص: ۳۰) [اسے احمد l اور بیہقی l نے’’شعب الایمان‘‘ میں نقل کیا ہے، اسی طرح ’’مشکوۃ‘‘ میں ہے][2]۔
ملتی جلتی احادیث
[قرنِ صحابہ گذر جانے کے بعد کسی جن صحابی کے دیکھنے سے برتقدیرِ صحت میری ناقص رائے میں تابعیت کا شرف حاصل نہ ہوگا، اس لئے کہ یہ فضیلت قرن کے ساتھ خاص ہے]
[میں (حضرت جونپوری l) کہتا ہوں کہ’’ مُنَبِّہَات‘‘ نہ تو حافظ ابن حجر عسقلانی l کی تصنیف ہے اور نہ ہی علامہ ابن حجر ہیتمی مکی lکی تالیف ہے]
۷ - جزء نصف شعبان روزے کی فضیلت
خاص نصف شعبان کے روزے کی فضیلت پر مشتمل مشہور روایت کو اگرچہ قطعی طور پر موضوع نہ کہا جاسکے لیکن بطریق ظن غالب اس کو موضوع کہا جاسکتا ہے،اور اگر اس کو ضعیف ہی قراردیا جائے تو بھی یہ حدیث شدید ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ عمل ہے۔
[متشکل یاانسانی بدن میں حلول کیا ہوا جن، صحابی یا تابعی ہونے کا دعویٰ کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نیز انسان اگر انھیں ان صورتوں میں دیکھ لے تو اسے کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟]
مراتب جرح