روایت: اللہ کے راستے میں دعا ایسے قبول ہوتی ہے جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء E کی دعا قبول ہوتی تھی۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] سنن ابن ماجه:۱/ ۹۶۶،رقم:۲۸۹۳،ت:محمد فؤاد عبد الباقي،دار إحياء الكتب العربية ـ حلب .
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس میں عاشورہ (دس محرم) کو مختلف انبیاء E حضرت آدم e،حضرت حواء علیہا السلام، حضرت ابراہیم e، حضرت اسماعیل e،حضرت موسیٰ e ، حضرت ایوب e، حضرت داؤد e،حضرت سلیمان e، حضرت عیسیٰ e اور نبی ﷺ کو پیشآنے والے بڑے بڑے واقعات کا ذکر ہے، نیز عاشورہ کے دنمختلف اعمال جیسے:غسل، سرمہ، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، مریضکی عیادت کرنا، افطار پر بڑے بڑے اجر و ثواب کا ذکر ہے۔
روایت: ایک مرتبہ آل محمدﷺ پر چار دن بھوک کی حالت میں گزرے، آپ ﷺ اللہ تعالی کی بارگاہ میں خوب گڑ گڑائے، اللہ تعالی نےحضرت عثمان r کے ذریعے وافر مقدار میں کھانا اور دیگر اشیاء بھجوائیں،پھر آپ ﷺ نے حضرت عثمان r کےلئے دعا کی: یا اللہ میں عثمانسے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا۔
حکایت: ابومعلق تاجرصحابیr کا ڈاکو سے حفاظت کی نماز میں ایک خاص دعا کرنا، اور فرشتہ کا اس ڈاکو کو نیزہ سے قتل کرنا۔
روایت: حالتِ مرض میں آیت کریمہ:’’ لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين‘‘.چالیس مرتبہ پڑھنے کے بعد اگر اسی مرض کی حالت میں مرگیاتو چالیس شہداء کا اجر ملے گا، اور اگر تندرست ہوگیا تو سارےگناہوں کی بخشش ہوجائے گی۔
روایت: اُس شخص کا منہ ٹیڑھا رہ جانا جس نے حضورﷺ کا نام تمسخر کے ساتھ لیا تھا۔