روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’التكبر على المتكبر صدقة‘‘.متکبر کے ساتھ تکبر کرنا صدقہ ہے‘‘۔
حکم: حافظ عراقی l، علامہ ابن حجر ہیتمی l اور علامہ پٹنی l فرماتے ہیں: ’’یہ حدیث غریب‘‘ہے، علامہ سبکی l نے اسے ان احادیث کی فہرست میں شامل کیا ہےجن کی سند ان کو نہیں مل سکی ہے، علامہ فخر الدین رازی l فرماتے ہیں: ’’یہ مشہور کلام ہے‘‘، ملا علی قاری l، علامہ عجلونی l اور علامہ محمد بن محمددرویش الحوتl نے علامہ فخر الدین رازیl کے کلام پر اعتماد کیا ہے، الحاصل اسے آپﷺ کی جانب منسوب کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] تنبيه الغافلين:ص:186،رقم:235،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421هـ .
[2] إحياء علوم الدين:3/341،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۰۲هـ .
[3] الدرة الغراء في نصيحة السلاطين والقضاة والأمراء:1/211،مخطوط من الشاملة .
[4] حاشية الشهاب:4/218،دار صادر ـ بيروت .
[5] روح البيان:5/25،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[6] المغني عن حمل الأسفار:1/956، رقم:3487،دار الطبرية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[7] إتحاف السادة المتقين:۱۰/۲۵۸،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الخامسة۱۴۳۳هـ .
[8] الزواجر عن اقتراف الكبائر:1/64،مطبعة حجازي ـ القاهرة،الطبعة1356هـ .
[9] تذكرة الموضوعات:ص:191،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت، الطبعة الثانية1399هـ .
علامہ پٹنیl مزید تحریر فرماتے ہیں: ’’وقال يحيى: التكبر على ذي التكبر عليك بما له تواضع‘‘.
[10] طبقات الشافعية الكبرى:۶/354،ت:محمود محمد الطناحي وعبد الفتاح محمد الحلو،دار إحیاء الکتب العربیة،الطبعةالثانية۱۴۱۳هـ .
[11] الأسرارالمرفوعة:163،رقم:142،ت:محمد الصباغ،مؤسسةالرسالة ـ بيروت،الطبعة1391هـ .
[12] مفاتيح الغيب:15/5،دارالفكرـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴01هـ .
[13] اللباب في علوم الكتاب:9/312،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[14] السراج المنير في الإعانة على معرفة بعض معاني كلام ربنا الحكيم الخبير:1/517،المطبعة المصرية ـ بولاق .
[15] کشف الخفاء:۱/۳۱۳،رقم:۱۰۱۱،مكتبة القدسى ـ القاهرة،الطبعة1351هـ .
[16] أسنى المطالب:ص:116،رقم:519،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دارالكتب العلميةـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[17] الجرح والتعديل:1/280،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[18] الرسالة القشيرية:ص:267،ت:عبد الحليم محمود ومحمود بن الشريف،المكتبة التوفيقية ـ القاهرة .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنتی ہر جمعہ کو اللہ کی زیارت کےلئے جائیں گے،باری تعالی ان سے فرمائیں گے:جو چاہو تمنا کرو، چنانچہ جنتی علماء سے جاکر ملیں گےکہ ہم کیا تمنا کریں؟ علماء کہیں گے: تم یہ یہ تمنا کرو، آپﷺنے فرمایا: چنانچہ جنت والے جنت میں بھی ان کے ایسے ہی محتاج ہوں گے جیسے وہ دنیا میں ان کے محتاج ہیں‘‘۔
روایت: ’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’احذروا الدنيا، فإنها أسحر من هاروت وماروت‘‘. دنیا سے بچو، کیونکہ یہ ہاروت اور ماروت سے زیادہ جادو کرنے والی ہے‘‘۔
روایت: ’’ قالوا: ما لنا منها؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: يا رسول الله! فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة‘‘. صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: ہمارے لئے اس قربانی میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہمنے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اون کے بدلہ میں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلہ میں ایک نیکی ہے۔
روایت: ’’آپﷺ کا ارشاد ہے: جب کوئی شخص قبروں پر گزرتے ہوئے یہ کلمات کہے: ’’السلام على أهل لا إله إلا الله، من أهل لا إله إلا الله، يا أهل لا إله إلا الله! كيف وجدتم قول لا إله إلا الله؟ يا لا إله إلا الله بحق لا إله إلا الله، اغفر لمن قال لا إله إلا الله، واحشرنا في زمرة من قال لا إله إلا الله‘‘، تو اس کہنے والے کے پچاس سال کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، علیr نے پوچھا کہ اگر اس شخص کے گناہ اتنے نہ ہوں تو آپﷺ نے فرمایا :اس کے والدین اور اس کے رشتہ دار اور عام مسلمانوں کے بھی معاف ہو جائیں گے‘‘۔
روایت: دوسروں کو اللہ تعالی کی جانب دعوت دینے /امر بالمعروف ونہی عن المنکرکرنے پر حور سے نکاح۔