روایت: جومسلمان مرد،عورت آیۃ الکرسی پڑھے اور اس کا ثواب قبر والوں کو بخش دے،اللہ روئے زمین کی ہر قبر میں نور داخل کردےگا اور قبر کو مشرق سے مغرب تک وسیع کردے گا،اور اس کے پڑھنے والے کے لئے ستر (۷۰) شہیدوں کا ثواب لکھ دےگا۔
حکم: من گھڑت
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] ذیل اللآ لی: کتاب الجامع، ص: ۱۹۹، المکتبة الأ ثریة- شیخوپوره، ط: ۱۳۰۳ هـ .
[2] الفردوس بمأثور الخطاب: ۴/ ۲۸، رقم: ۶۰۸۶، ت: السعيد بن بسيوني زغلول، دار الكتب العلمية– بيروت، ط:۱۴۰۶
[3] ذیل اللآلی: کتاب الجامع، ص: ۱۹۹، المکتبة الأ ثریة- شیخوپوره، ط: ۱۳۰۳ هـ .
[4] تنزيه الشريعة: کتاب فضائل قران، الفصل الثالث، ۱/ ۳۰۱، رقم: ۶۴، ت: عبدالله الغماری، دار الکتب العلمية– بیروت، ط: ۱۴۰۱ هـ .
[5] تنزيه الشريعة: کتاب العلم، الفصل الثالث،۱/ ۲۷۵، رقم: ۷۷، ت: عبدالله الغماری، دار الکتب =
= العلمية– بیروت، ط: ۱۴۰۱ هـ .
[6] المغني في الضعفاء:باب الکنى، ۲/ ۷۸۳، رقم: ۷۴۵۱، ت: نور الدين عتر، دار احیاءالتراث العربی– بيروت، ط: ۱۹۸۷م .
[7] البداية والنهاية:۱۵/ ۱۱۱، ت: عبد الله بن عبد المحسن التركي، دار هجر– مصر، ط: ۱۴۱۷ هـ .
[8] ذيل ميزان الاعتدال: حرف العین، ص: ۳۶۱، رقم: ۵۸۹ت: عبدالقیوم عبدرب النبی، إحياءالتراث الإسلامي – بيروت، ط: ۱۴۰۶ هـ .
[9] علامہ ابن یونس کی تالیف جس پر علامہ ابوالقاسم نے ذیل لکھی ہے ’’تاریخ الغرباء‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
[10] الكشف الحثيث: حرف الراء،ص: ۱۱۶، رقم: ۲۸۸، ت: صبحي السامرائي، مكتبة النهضة العربية – بيروت، ط: ۱۴۰۷ هـ .
[11] الوافي بالوفيات: ۱۹/ ۳۱۶، رقم: ۷۶۱۶، ت: أحمد الأرنا ؤوط، دار إحياء التراث – بيروت، ط: ۱۴۲۰ هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’علم حاصل کرو اگرچہ چین تک ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘۔ضمنی طور پر روایت: ’’علم حاصل کرو، ماں کی گود سے قبر تک‘‘کی تحقیق کی گئی ہے۔
روایت : ’’ من زار العلماء فكأنما زارني، ومن صافح العلماء فكأنما صافحني، ومن جالس العلماء فكأنما جالسني، ومن جالسني في الدنياأجلس إليّ يوم القيامة‘‘.
ترجمہ: جس نے علماء کی زیارت کی،گویا کہ اس نے میری زیارت کی،جس نے علماء سے مصافحہ کیا، گویا کہ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا،جس نے علماء کی ہم نشینی اختیارکی،گویا کہ اس نے میری ہم نشینی اختیار کی،اور جس نے دنیا میں میری ہم نشینی اختیار کی اللہ تعالی آخرت میں اسے میری ہم نشینی عطا فرمائیں گے۔
روایت: کھانے کےبعد کی دعا: الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا من المسلمين‘‘.
روایت: ’’من امتشط قائما ركبه الدين‘‘.
ترجمہ: کھڑے ہو کر کنگی کرنے والا شخص مقروض ہوجاتا ہے۔
روایت: ’’عن عائشة قالت: بينا رأس رسول الله صلى الله عليه وسلم في حِجري ليلة ضاحية إذ قلت: يا رسول الله! هل يكون لأحد من الحسنات عددُ نجوم السماء؟ قال: ’’ نعم عمر‘‘. قلت: فأين حسنات أبي بكر؟ قال: ’’إنما جميع حسنات عمر كحسنة واحدة من حسنات أبي بكر‘‘.
ترجمہ: حضرت عائشہ R سے روایت ہے،فرماتی ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ روشن رات میں رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا، اس دوران میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا کسی شخص کی ستاروں کی تعداد کے برابر نیکیاں ہو سکتی ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ہاں عمر کی ‘‘۔میں نےعرض کیا:پھر ابو بکر r کی نیکیاں کہاں گئیں؟حضور ﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی تمام نیکیاں ابو بکر کی ساری نیکیوں میں سے ایک نیکی کے برابر ہے‘‘۔