روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’نصرت بالشباب‘‘. میری مدد جوانوں سے کی گئی‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ أوصيكم بالشباب خيرا، فإنهم أرق أفئدة، إن الله بعثني بشيرا ونذيرا، فحالفني الشباب وخالفني الشيوخ، ثم قرأ:’’فطال عليهم الأمد فقست قلوبهم‘‘. میں تمہیں جوانوں سے بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، کیوں کہ ان کے دل زیادہ نرم ہوتے ہیں، اللہ تعالی نے مجھے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، پھر جوانوں نے مجھ سے عہد وپیمان کیا، اور بوڑھوں نے میری مخالفت کی، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’پھر ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا، پھر ان کے دل سخت ہوگئے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو دن آپ گناہوں کے بغیر گزاریں ایسے ہی ہے جیسے وہ دن میری صحبت میں گزارا ہو‘‘۔
روایت: ’’نبی ﷺ نے ایک مرتبہ جہاد سے واپس تشریف لاتے ہوئے دریا کے کنارے پڑاؤ ڈالا، آپ ﷺاپنی ضرورت سے فارغ ہوئے اور آپﷺ نے اسی وقت تیمم فرما لیا، ایک صحابیr نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ! وہ سامنے پانی ہے، فرمایا: ہاں، کیا معلوم کہ یہاں سے وہاں جانے تک میری زندگی ساتھ دے گی یا نہیں؟ اس لئے میں نے احتیاطاً تیمم کرلیا ہے، پھر آپ ﷺ نے جاکر وضو فرمایا اور نماز ادا کی‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’كل ما شغلك عن الله فهو معبودك‘‘. ہر وہ چیز جو تجھے اللہ سے غافل کردے وہی تیرا معبود ہے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا دریا کے کنارے پر عصر کی نماز کے بعد اپنی امت کےلئے رو رو کر مغفرت کی دعا مانگنا، اور ایک چڑیا کا اپنی چونچ میں چند دانے ریت کے لے جا کر دریا میں ڈالنا، پھر آپ ﷺ کے پوچھنے پر جبرائیل e کا آپ ﷺ کو بتانا کہ جس طرح چڑیا کے ریت کے چند دانوں سے دریا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح آپ ﷺ کی امت کے گناہ اللہ تعالی کی رحمت کے دریا کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔