روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من مس كف امرأة ليس منها بسبيل، وضع في كفه جمرة يوم القيامة، حتى يفصل بين الخلائق‘‘. جس نے کسی ایسی عورت کے ہاتھ کو چھوا جسے چھونے کی کوئی سبیل نہ ہو، تو روزِ قیامت اس کی ہتھیلی پر انگارہ رکھا جائےگا، یہاں تک کہ مخلوق کے مابین فیصلہ ہوجائے‘‘۔
حکم: حافظ زیلعی l فرماتے ہیں: ’’یہ غریب ہے‘‘، علامہ صدر الدین ابن ابی العز حنفیl فرماتے ہیں: ’’میں نے مشہور کتبِ حدیث میں سے کسی کتاب میں اسے نہیں دیکھا‘‘، حافظ ابن حجر عسقلانی l فرماتے ہیں: ’’مجھے یہ نہیں مل سکی‘‘، حافظ بدر الدین عینی l فرماتے ہیں: ’’یہ نبی ﷺ سے ثابت نہیں ہے، اور اسے ارباب صحاح وحسان میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا‘‘، الحاصل اس روایت کو آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] كتاب المبسوط للسرخسي:10/154،دار المعرفة ـ بيروت .
[2] الهداية:7/188،ت:نعيم أشرف نور أحمد،إدارة القرآن والعلوم الإسلامية ـ كراتشي ـ باكستان،الطبعة الأولى1417هـ .
[3] كتاب الدرر الحكام في شرح غرر الأحكام:1/314،مير محمد كتب خانة ـ كراتشي،باكستان .
[4] تبيين الحقائق:6/18،المطبعة الكبرى الأميرية ـ مصر،الطبعة الأولى1315هـ .
[5] الجوهرة النيرة:2/6۲۰،ت:إلياس قبلان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[6] مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:2/540،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
[7] تكملة البحر الرائق:8/۲۱۹،المطبعة العلمية ـ مصر،الطبعة1311هـ .
[8] نصب الراية:4/240،رقم:7301،ت:محمد عوامة،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[9] التنبيه على مشكلات الهداية:5/783،ت:أنور صالح أبو زيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1424هـ .
[10] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:2/225،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[11] البناية شرح الهداية:12/132،ت:أيمن صالح شعبان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .
[12] المعجم الكبير:20/211،رقم:886،ت:حميدي عبد المجيد السلفي،مكتبة ابن تيمية ـ القاهرة،الطبعة 1404هـ .
[13] مجمع الزوائد ومنبع الفوائد:4/326،ت:حسام الدين القدسي،دار الكتاب العربى ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’غار ثور میں حضرت ابو بکرr کو شدید پیاس لگی، آپﷺ سے عرض کیا، غار کے دہانے پر جاکر پینے کا حکم ہوا، حضرت ابو بکرr نے پانی پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا، دودھ سے زیادہ سفید اور مشک سے زیادہ خوشبو والا تھاجو کہ اللہ تعالی کے حکم سے ایک فرشتے نے جنت الفردوس کی نہر سے جاری کیا تھا‘‘۔
روایت: ’’ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’رحم الله رجلا قال: يا أهلاه! صلاتكم، صيامكم، زكاتكم، مسكينكم، يتيمكم، جيرانكم، لعل الله يجمعهم معه في الجنة‘‘. اللہ اس شخص پر رحم فرمائےجو کہے: اے گھر والو! اپنی نماز، اپنی زکوۃ، اپنے مسکین، اپنے یتیم، اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرو، شاید اللہ تعالی اس کے ساتھ ان کو جنت میں اکٹھا کردے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے علی! اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں ابو بکر r کو والد، عمر r کو مشیر، عثمان r کو سند وحجت اورتجھے مددگار بناؤں، تم چار ہو، اللہ نے لوح محفوظ میں عہد لیا ہے کہ تم سے صرف متقی مؤمن ہی محبت کر سکے گا، تم سے بغض رکھنے والا بد بخت منافق ہو گا، تم چاروں خلف رشید ہو، اور میری ذمہ داریوں کی مضبوطی ہو، اور میری امت پر حجت ہو‘‘۔
روایت: ’’حضرت موسی e کا ایک واقعہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیان فرمایا: موسی e کے دل میں خیال گزرا کہ اللہ تعالی کبھی سوتا ہے؟ تو اللہ تعالی نے ایک فرشتہ ان کے پاس بھیجا، جس نے موسی e کو تین دن تک سونے نہ دیا، پھر موسی e کے ایک ایک ہاتھ میں بوتل دی اور حکم دیا کہ ان کی حفاظت کرو، یہ ٹوٹیں نہیں، حضرت موسی e انہیں لے کر حفاظت کرنے لگے، لیکن نیند غالب آگئی اور بوتلیں ہاتھ سے گر کر چورا چورا ہوگئیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر اللہ تعالی نے مثال بیان کی: اگر اللہ تعالی سو جائیں تو زمین وآسمان نہیں رک سکتے‘‘۔
روایت : ثعلبہ بن حاطب کا آپ ﷺ سے کہنا کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے مالدار بنا دیں، پھر آپ ﷺ کا ثعلبہ کےلئے مالدار ہونے کی دعا فرمانا، اور مال کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ثعلبہ کا مدینہ سے دور چلے جانا، حتی کہ نمازوں میں بھی حاضر نہ ہونا، اور پھر زکوۃ دینے سے اعراض کرنا، اس کے بعد نادم ہوکر آپ ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لانا، آپ ﷺ کا اسے قبول نہ کرنا، پھر حضرت ابو بکر r ، حضرت عمر r اور حضرت عثمان r کا بھی زکوۃ قبول نہ کرنا، اور حضرت عثمان r کے زمانہ میں ثعلبہ کا انتقال ہونا۔