روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ لا يرد دعاء أوله: بسم الله الرحمن الرحيم‘‘.جس دعا کے شروع میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ہو وہ رد نہیں ہوتی‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الغنيةلطالبي طريق الحق عز وجل:1/220،ت:أبو عبد الرحمن صلاح بن محمد بن عويضة،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۷هـ .
[2] ربيع الأبرار ونصوص الأخبار:2/449،رقم:4،ت:عبد الأمير مهنا،مؤسسة العلمي ـ بيروت،الطبعة الأولى 1412هـ .
علامہ جار اللہ زمخشری l کی عبارت میں اضافہ بھی ہے، ملاحظہ فرمائیں: ’’النبي صلى الله عليه وسلم: لا يرد دعاء أوله: بسم الله الرحمن الرحيم، فإن أمتي يأتون يوم القيامة، وهم يقولون: بسم الله الرحمن الرحيم، فتثقل حسناتهم في الميزان، فتقول الأمم: ما أرجح موازين أمة محمد؟ فتقول الأنبياء: إن ابتداء كلامهم ثلاثة أسماء من أسماء الله، لو وضعت في كفة الميزان، ووضعت سيئات الخلق في كفة أخرى، لرجحت حسناتهم‘‘.
یہی اضافہ ’’لمحات‘‘ اور ’’المستطرف‘‘میں بھی ہے، اس اضافے کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
[3] كتاب لمحات الأنوار ونفحات الأزهار وري الظمآن لمعرفة ما ورد من الآثار في ثواب قارئ القرآن: ص:483،ت:رفعت فوزي عبد المطلب،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[4] المستطرف في كل فن مستظرف:2/13،دار مكتبة الحياة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[5] نزهة المجالس ومنتخب النفائس:۱/۳۵،المكتبة العصرية ـ بيروت،الطبعة1438هـ .
[6] روح البيان:1/9،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: بلاشبہ میری امت روزِ قیامت ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘کہتی ہوئی آئےگی، سو میزان میں ان کی نیکیاں وزنی ہوں گی، پھر دوسری امتیں کہیں گی: امت محمد ﷺ کے میزان کو کس چیز نے وزنی کردیا ہے؟ ان کے انبیاء E فرمائیں گے: اس کی وجہ یہ ہے کہ امت محمد ﷺ کے کلام کی ابتداء اللہ تعالی کے تین مکرم ناموں سے ہوتی ہے، اگر ان کو ترازو کے پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری جانب تمام مخلوق کی برائیاں رکھ دی جائیں تو ان کی نیکیاں وزنی ہو جائیں‘‘۔
روایت:’’نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلاشبہ جنت میں اللہ نے ایک گھر بنایا ہے جس کا نام ’’دار النور‘‘ہے، اور اس میں موجود ہر چیز کو اللہ تعالی نے نور سے تخلیق کیا ہے، اور یہ گھر ہوا میں ہے، جس کا کوئی راستہ نہیں ہے، پوچھا گیا: یا رسول اللہ! لوگ اس میں کیسے چڑھ کر جائیں گے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: ان سے کہا جائےگا کہ تم ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ پڑھو، سو وہ اڑکر وہاں پہنچ جائیں گے‘‘۔
روایت: ’’قیامت کے دن جب اس امت کے اعمال کا وزن کیا جائےگا تو ان کی نماز کی ایک رکعت دوسری امتوں کی نماز کی ہزار رکعات سے بڑھ جائے گی، سو لوگ اس پر تعجب کریں گے، پھر ان سے کہا جائےگا: یہ لوگ اپنی نماز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘پڑھتے تھے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: بنی اسرائیل میں ایک انتہائی خوبصورت عابد تھا، جو ٹوکریاں بنا کر فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کے دروازہ کے سامنے سے گزرا، بادشاہ کی بیوی کو وہ بہت پسند آیا، اور اس نے اس سے اپنی حاجت کو پورا کرنا چاہا، اس نے انکار کیا، اور گناہ سے بچنے کےلئے اپنے آپ کو مارنے کےلئے چھت سے گرا دیا، اور حضرت جبرائیل e نے اللہ کے فرمان سے آکر بچا لیا۔۔۔‘‘۔
روایت:حدیث میں ہے: ’’جو شخص کھانے میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے، پھر وہ کھانے سے فارغ ہوکر ایک مرتبہ ’’قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ‘‘پڑھ لے، تو اس کےلئے جنت میں سرخ یاقوت کا ایک شہر بنایا جائےگا، اور ہر لقمہ کے بدلہ اس کےلئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی‘‘۔