روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’قیامت کے دن سب سے پہلے خاوند کا بیوی سے سلوک تولا جائے گا، اور بیوی کا خاوند سے سلوک تولا جائے گا‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’روز قیامت سب سے پہلے آدمی کی گھر والی اور اس کی اولاد اس سے چمٹ جائے گی، سو وہ اسے اللہ تعالی کے روبرو کھڑا کریں گے، اور کہیں گے: اے ہمارے رب! اس سے ہمیں ہمارا حق دلائیں، کیونکہ اس نے ہمیں ان چیزوں کی تعلیم نہیں دی تھی جس سے ہم ناواقف تھے ، اور یہ ہمیں حرام کھلاتا تھا، اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا ، فرماتے ہیں:سو ان کو اس سے بدلہ دلایا جائے گا ‘‘۔
روایت: ’’قربِ قیامت میں لوگ اپنی بیویوں سے زنا کریں گے‘‘۔
روایت: ’’آپ s کا ارشاد ہے: قیامت کی علامات میں سے ہےکہ خاوند اپنی بیویوں کو طلاق دیں گے ، اور پھر رجوع کئے بغیر ان کے ساتھ اسی طرح اپنی زندگی گزاریں گے‘‘۔
روایت: ایک حدیث میں ہے: ’’جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فرض ادا کیا، اور جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ تعالی کو قرض دیا، اور جو تین حج کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کھال کو اس کے بال کو آگ پر حرام کردیتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’اللہ تعالی کا ولی حور عین میں سے اپنی زوجہ کے ساتھ تخت پربیٹھا ہوگا جو کہ سرخ یاقوت کا ہوگا، اور اس پر نور کے قبے ہوں گے، سو اس وقت وہ اپنی بیوی سے کہے گا کہ میں تمہاری چال کا مشتاق ہوں، فرمایا کہ وہ سرخ یاقوت کے تخت سے اتر کر سبز مرجان کے باغ کی طرف چلے گی ، اور اللہ عزوجل اس کےلئے اس باغیچے میں دو نور کے راستے پیدا فرمادیں گے، ان میں سے ایک راستہ زعفران کا ہوگا، اور دوسرا کافور کا ہوگا، وہ زعفران کے راستے پر چلے گی اور کا فور کے راستے سے لوٹے گی، اور وہ ناز ونخرے کے ستر ہزار طریقوں سے چلے گی‘‘۔