روایت: ’’نبی ﷺ نے فرمایا: جو عورت نماز پڑھ کر اپنے خاوند کےلئے دعا نہ مانگے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی‘‘۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] تنبیه الغافلین:ص:515،رقم:812 ،ت:يوسف علي بديوي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثالثة1421هـ .
[2] روضة العلماء ونزهة الفضلاء:ص:339،ت:بشير برمان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1442هـ .
’’روضۃ العلماء‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’... وأيما امرأة صلت لربها وتدعو لنفسها ولم تدعو [ كذا في الأصل] لزوجها إلا ضرب الله بصلاتها وجهها حتى تدعو لزوجها ثم لنفسها ....‘‘.
[3] روح البيان:۲/۲۰۳،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت .
’’روح البیان‘‘ کی عبارت ملاحظہ ہو: ’’ قال النبي عليه السلام مخاطبا لعائشة رضي الله عنها... يا عائشة! وأيما امرأة تصلى لربها، وتدعو لنفسها ثم تدعو لزوجها إلا ضرب بصلاتها وجهها، حتى تدعو لزوجها ثم تدعو لنفسها‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: ایک صحابی r کا نماز پڑھنے کے بعد فوراً نکل جانا، اور آپﷺ کے پوچھنے پر بتانا کہ گھر میں صرف یہی ایک ہی چادر ہے، لہذا میں گھر جاکر یہ چادر اپنی اہلیہ کو دیتا ہوں اور وہ نماز ادا کرتی ہیں، پھر آپﷺ کا صحابی r کو اپنی چادر عطا کرنا، اور صحابی r کا تاخیر سے گھر پہنچنا، اور اہلیہ کے پوچھنے پر پورا قصہ بتانا، اور صحابی r کی اہلیہ کا یہ کہنا کہ آج آپﷺ کے سامنے اپنے رب کی شکایت کر کے آئے ہو۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص چار سو مرتبہ پڑھے تو اس کے لئے چار سو شہیدوں کا ثواب لکھا جائے گا، ان میں ہر شہید ایسا ہوگا جس کا گھوڑا ذبح کردیا گیا ہواور اس کا خون بھی بہایا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص اس کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے تو اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا مقام جنت میں نہ دیکھ لے، یا جب تک اس کو جنت میں اس کا مقام نہ دکھلادیا جائے‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ نے فرمایا: ’’من تعمم قاعدا أو تسرول قائما ابتلاه الله تعالى ببلاء لا دواء له‘‘. جس نے بیٹھ کر عمامہ باندھا، یا کھڑے ہوکر پاجامہ یا شلوار پہنی تو اللہ تعالی اسے ایسی مصیبت میں مبتلا فرمائیں گے جس کی کوئی دواء نہیں ہوگی‘‘۔
روایت:’’نبیﷺ نے جبریل e سے فرمایا: اللہ عز وجل فرماتے ہیں: ’’اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہاں کے لوگوں پر مہربانی کرنے کےلئے‘‘، کیا آپ کو بھی اس رحمت سے کوئی چیز پہنچی ہے؟ جبریل e نے فرمایا: جی ہاں، مجھے بھی اس رحمت میں سے حصہ ملا ہے، میں انجام سے ڈرتا تھا، پھر مجھے آپ ﷺ کی وجہ سے امن حاصل ہوگیا، کیونکہ اللہ تعالی نے اپنے اس ارشاد سے میری تعریف کی ہے: ’’جو قوت والا ہے مالکِ عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے، وہاں اس کا کہنا مانا جاتا ہے امانت دار ہے‘‘۔