روایت : ”دنیا آخرت کی کھیتی کی جگہ ہے “، اس روایت کی آگاہی نہیں،
لیکن اس کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔
تفصیل
حدیث : ”دنیا آخرت کی کھیتی کی جگہ ہے “، [حافظ سخاوی l فرماتے ہیں ] میں اس پر آگاہ نہیں ہوا ۔
ف: میں کہتا ہوں [حضرت تھانوی l]، لیکن اس کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے اس آیت میں : ”اللہ تعالیٰ نے تجھ کو (دنیا میں) جو دے رکھا ہے تو اس میں آخرت کی بھی جستجو کر،اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) فراموش مت کر“۔ [سورۃ القصص، الآیۃ : ۷۷][1]۔
حوالہ جات
[1] التشرف : ص:۸۷،مکتبہ محبوب المطابع، دہلی۔ التشرف : دنیا آخرت کی کھیتی ہے، کی صحت کی تحقیق اور اس کے معنی، ص : ۱۷۲، ادارہ تالیفات اشرفیہ ،ملتان۔
علامہ صغانی ؒ نے اسے ”موضوعات“ (رقم:۱۰۶) میں ذکر کیا ہے،نیز حافظ سخاوی ؒ کے قول پر ملا علی قاری ؒ نے ”المصنوع“ (رقم:۱۳۵) میں، علامہ عجلونی ؒ نے ”كشف الخفاء“ (رقم:۱۳۲۰)میں، علامہ احمدبن عبدالکریم غزیؒ نے ”الجد الحثيث“ (ص:۱۰۱) میں، علامہ قاوقجی ؒنے ”اللؤلؤ المرصوع“ (رقم:۲۰۴)میں، علامہ محمدبن محمد درویشؒ نے ”اسنى المطالب“ (رقم:۶۸۰) میں اکتفاء کیا ہے۔
ملتی جلتی احادیث
روایت : ”مؤمن کا لعاب شفا ہے“، اس کے الفاظ
ثابت نہیں، لیکن مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”فقر، میرا فخر ہے“، غلط اور موضوع ہے۔
روایت: ”باری تعالی ٰ فرماتے ہیں کہ میں ایک خزانہ تھا۔۔۔“۔
یہ نبی ﷺ کا کلام نہیں ہے، لیکن اس کا مضمون صحیح ہے۔
روایت: ”جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے پروردگار کو پہچان لیا“، آپ ﷺ سے ان الفاظ سے ثابت نہیں، البتہ اس کا معنی صحیح ہے۔
روایت: ”بلال r ، شین کی جگہ اذان میں سین کہتے تھے“، اس کی کچھ اصل نہیں۔