روایت: دوسروں کو اللہ تعالی کی جانب دعوت دینے /امر بالمعروف ونہی عن المنکرکرنے پر حور سے نکاح۔
حکم: حافظ عراقی l فرماتے ہیں:’’میں اس کی اصل پر مطلع نہیں ہوسکا، اور یہ منکر ہے‘‘، علامہ مرتضی زبیدی l نے حافظ عراقی l کے کلام کونقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے، علامہ تاج الدین سبکیl نے زیر بحث روایت کو ان روایات میں شمار کیا ہےجن کی سند ان کو نہیں مل سکی ہے، چنانچہ زیر بحث روایت کو آپﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] إحياءعلوم الدين:ص:786،دار ابن حزم ـ بيروت،الطبعة الأولى1426هـ .
[2] تنبيه الغافلين عن أعمال الجاهلين وتحذير السالكين من أفعال الجاهلين:1/29،ت:عبد اللطيف حسن عبد الرحمن،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[3] المغني عن حمل الأسفار:۱/۵۸۷،رقم:۲۲۵۰،ت:عماد الدين عباس سعيد،دار الکتب العلمیة ـ بيروت، الطبعة الأولى ۱۴07هـ .
[4] إتحاف السادة المتقین:۸ /۲۲،دارالکتب العلمیة ـ بيروت،الطبعة۱۴۳۳هـ .
[5] طبقات الشافعية الكبرى:۶/۳21،ت:محمود محمد الطناحي وعبد الفتاح محمد الحلو،هجر للطباعة والنشر، الطبعة الثانية۱۴۱۳هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’التكبر على المتكبر صدقة‘‘.متکبر کے ساتھ تکبر کرنا صدقہ ہے‘‘۔
روایت: ’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’احذروا الدنيا، فإنها أسحر من هاروت وماروت‘‘. دنیا سے بچو، کیونکہ یہ ہاروت اور ماروت سے زیادہ جادو کرنے والی ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت والے جنت میں بھی علماء کے محتاج ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جنتی ہر جمعہ کو اللہ کی زیارت کےلئے جائیں گے،باری تعالی ان سے فرمائیں گے:جو چاہو تمنا کرو، چنانچہ جنتی علماء سے جاکر ملیں گےکہ ہم کیا تمنا کریں؟ علماء کہیں گے: تم یہ یہ تمنا کرو، آپﷺنے فرمایا: چنانچہ جنت والے جنت میں بھی ان کے ایسے ہی محتاج ہوں گے جیسے وہ دنیا میں ان کے محتاج ہیں‘‘۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: حالت اسلام میں کسی شخص کے بچے کی ولادت ہو، پھر وہ لا الہ الا اللہ کہنے تک پہنچ جائے تو اللہ تعالی اس کے والدین کو جنت میں داخل فرمائیں گے‘‘۔
روایت: عالم ارواح میں اللہ تعالی نے روحوں سے پوچھا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو سب سے پہلے اللہ کے حبیب ﷺ نے ’’بَلى‘‘(یعنی کیوں نہیں) فرمایا۔