روایت: ’’آپ ﷺ کا خوش ہوکر حضرت عائشہR سے فرمانا: آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ حضرت عائشہR کا حضرت ابو بکر r سے مشورہ کرنے کے بعد یہ عرض کرنا: معراج کی رات قربتِ خاص میں جو باتیں آپ سے ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتا دیں۔۔۔‘‘۔
تفصیل
روایت:’’ایک دن آپﷺ نے حضرت عائشہR سے فرمایا: اے عائشہ! آج مانگو مجھ سے کیا مانگتی ہو؟ جو مانگو گی ملے گا،حضرت عائشہR نے فرمایا: حضور اگر اجازت ہو تو میں اپنے والد حضرت ابوبکر rسے مشورہ کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ مشورہ کرلو، حضرت عائشہR اپنے والد کے پاس حاضر ہوئیں، اور ساری بات بتائی، پھر پوچھا کہ میں آپﷺ سے کیا مانگوں؟ حضرت ابوبکر صدیقr نے فرمایا: عائشہ!جاکے آپﷺ سے کہنا کہ معراج کی شب قربت خاص میں جو راز کی باتیں ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتادیں، اور فرمایا کہ آپ ﷺ جو بتائیں وہ مجھے بھی بتانا، حضرت عائشہ R آپ ﷺ کے پاس واپس تشریف لائیں، تو آپ ﷺ نے پوچھا: عائشہ! مشورہ ہوگیا، کہا: جی ہوگیا، آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ کیا مانگتی ہو؟
حضرت عائشہ R نے کہا: معراج کی رات قربت خاص میں جو باتیں ہوئیں ان میں سے کوئی ایک بتادیں، آپ ﷺمسکرا دئے، اور فرمایا: عائشہ سنو! جب میں قرب خاص میں پہنچا تو میرے رب نے مجھ سے جو باتیں کیں ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ میرے رب نے فرمایا: اے میرے محبوب!آپ کی امت میں سے اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا ٹوٹا ہوا دل جوڑدےتو مجھ پر لازم ہے کہ میں اسے بغیر کسی حساب کے جنت عطا کروں گا، حضرت عائشہ R بہت خوش ہوئیں، اپنے والد حضرت ابو بکر rکے پاس حاضر ہوئیں، آپ r نے فرمایا: عائشہ! آپ ﷺنے کیا فرمایا؟ حضرت عائشہ R نے ساری بات بتا دی،عائشہ R خوش تھیں جبکہ ابو بکر rنے جب یہ سنا تو زار وقطار رونا شروع کردیا، عائشہ R نے کہا: ابا جی! یہ بات رونے والی تو نہیں، بسا اوقات ہم دکھی لوگوں کے کام آجاتے ہیں، ہمیں تو بخشش کا بہانہ مل گیا، حضرت ابو بکر r نے فرمایا: اس کا الٹ بھی تو دیکھو، اگر کوئی کسی کا ٹوٹا ہوا دل جوڑے تو بغیر حساب کے جنت میں جائے گا، اور اگر کوئی کسی کا دل توڑ دے تو وہ سیدھا جہنم میں جائے گا، اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ ہم سے کسی کا دل نہ ٹوٹ گیا ہو‘‘۔
حوالہ جات
[1] مجموع فتاوى:۴/۸۲ ،ت:عبد الرحمن بن محمد بن قاسم،مجمع الملك فهد ـ المدينة المنورة، الطبعة1425هـ .
ملتی جلتی احادیث
روایت:’’حضرت عائشہR فرماتی ہیں کہ میں ایک دن گوشت بھون کر بیٹھی، میں نے کہا: آپ ﷺ کےلئے بھنا ہوا گوشت ہے، آپ ﷺ نے پانی کا ایک بڑا پیالہ اس میں اور ڈال دیا، میں نے کہا :یا رسول اللہﷺ!میں نے بڑے مزے کا گوشت بنایا تھا، فرمایا: عائشہ !اکیلا نہیں کھاؤں گا، چالیس گھروں تک جو بیوہ ہیں میں محمد ان کے پاس بھی یہ اللہ کی نعمت اور نبی کا تحفہ پہنچاؤں گا، پھر گوشت کے قریب بیٹھ گئے، فرمانے لگے: فلاں بوڑھی کو بلاؤ، فلاں بیوہ کو بلاؤ، فلاں اندھی کو بلاؤ، فلاں لنگڑی کو بلاؤ، عائشہR فرماتی ہیں کہ کچھ نہ بچا، سارا پیغمبرﷺ نے بیٹھ کر تقسیم کردیا‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: مجھے جبریل e نے بتایا کہ اللہ تعالی نے جب آدم eکی تخلیق کی، اور اس کے جسم میں روح داخل کردی، تو مجھے حکم دیا کہ میں جنت کا سیب لے کر اسے آدم eکے حلق میں نچوڑ دوں، سو میں نے اسے ان کے منہ میں نچوڑ دیا، پھر اللہ تعالی نے پہلے قطرے سے اے محمد! آپ کو پیدا کیا، اور دوسرے سے ابو بکر rکو، تیسرے سے عمر rکو، چوتھے سے عثمان rکو، اور پانچویں سے علی rکو، پھر آدم eنے پوچھا: یہ کون ہیں جن کا آپ نے اکرام کیا ہے؟ اللہ تعالی نے فرمایا: یہ آپ کی اولاد کے پانچ شیوخ ہیں، اور فرمایا: میری تمام مخلوق کے مقابلہ میں میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ اکرام والے ہیں، آپ ﷺ فرماتے ہیں: پھر جب آدم e سے نافرمانی سرزد ہوگئی تو عرض کیا: میرے رب! ان پانچ شیوخ کی حرمت کے وسیلہ سے جن کو آپ نے فضیلت دے رکھی ہے آپ میری توبہ قبول فرما لیں، سو اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول کرلی‘‘۔
روایت:’’ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے فقیروں اور مسکینوں کا اکرام کیا؟ آج تم جنت میں اس طرح داخل ہوجاؤکہ نہ تم پر کسی قسم کا خوف ہےنہ تم مغموم ہوگے، اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جنہوں نے بیمار، فقیروں اور غریبوں کی عیادت کی؟ آج وہ نور کے منبروں پر بیٹھیں گے، اور اللہ عز وجل سے باتیں کریں گے، اور دوسرے لوگ حساب کی سختی میں مبتلا ہوں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ اذان اور اقامت کے درمیان یہ دعا پڑھ لے: ’’اللهم إني أسئلك العفو والعافية في الدنيا والآخرة‘‘. اس کو اللہ تعالی چار انعام دیں گے: 1 اللہ تعالی اسے ایسی بیماری نہیں لگنے دیں گے جس سے موت آجائے 2 اللہ تعالی اس کو تنہائی کے گناہ سے بچائیں گے 3 اللہ تعالی اس کو ظالموں سے دور رکھیں گے 4 اللہ تعالی اس کو بغیر محنت کے آسان روزی عطا فرمائیں گے‘‘۔