روایت: جو شخص جمعہ کے دن درود پڑھتا ہے اس کے درود کو نبی ﷺخود سنتے ہیں۔
حکم: حافظ سخاویl فرماتے ہیں:’’اگر اسےاس کے ظاہر پر حمل کیا جائے تو میں اس کی کسی دلیل کو نہیں جانتا‘‘، اور علامہ زرقانی lنے حافظ سخاویl کا قول ان الفاظ سے نقل کیا ہے: ’’جب درود پڑھنے والا نبی sکی قبر کے پاس درود پڑھے تو آپ ﷺ بلا واسطہ اس کو سنتے ہیں، چاہے جمعہ کی رات ہو یا اس کے علاوہ ہو، اور بعض خطباء اور ان جیسے لوگوں کا یہ کہنا کہ اس دن جو شخص نبی s پر درود پڑھتا ہے تو آپs اسے اپنے کانوں سے بذاتِ خود سنتے ہیں، (خطباء کی) اس بات کو قریب پر حمل کرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی مفہوم نہیں بنتا (یعنی یہ سننا جمعہ اور اس کے علاوہ میں بھی ہوتا ہے، تو پھر جمعہ کو خاص طور پر ذکر کرنے کا کوئی معنی نہیں بنتا)، انتہی‘‘، الحاصل اس روایت کو مذکورہ سیاق والفاظ کے ساتھ آپ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے، واللہ اعلم۔
تفصیل
حوالہ جات
[1] الأجوبة المرضية:۳/۹۳۱،ت:محمد إسحاق محمد إبراهيم،دار الراية ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۱۸هـ .
[2] امام طبرانی lکی مطبوع کتب میں یہ روایت نہیں مل سکی، البتہ حافظ ابن قیم l نے ’’جلاء الافہام‘‘ میں یہ روایت امام طبرانیl کے حوالہ سے ذکر کی ہے، ملاحظہ ہو:’’قال الطبراني: حدثنا يحيى بن أيوب العلاف، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يحيى بن أيوب، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هلال، عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة، فإنه يوم مشهود، تشهده الملائكة، ليس من عبد يصلي علي إلا بلغني صوته حيث كان، قلنا: وبعد وفاتك؟ قال:وبعد وفاتي، إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء‘‘.(جلاء الأفهام في فضل الصلاة على محمد خير الأنام:ص:127،ت:شعيب الأرناؤوط وعبد القادر الأرناؤوط،دار العروبة ـ الكويت،الطبعة الثانية۱۴07هـ) .
[3] شرح الزرقاني على المواهب:12/203،ت:محمدعبدالعزيزالخالدي،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1417هـ .
[4] المستدرك على الصحيحين:۴/۶۰۴،رقم:۸۶۸۱ ،ت:مصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴۲۲هـ .
[5] تلخيص المستدرك بذيل المستدرك على الصحيحين:4/560،ت:يوسف عبد الرحمن المرعشلي،دار المعرفة ـ بيروت .
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’سمع رجلا يتغنى من الليل فقال: لا صلاة له حتى يصلى مثلها، ثلاث مرات‘‘. نبی اکرم ﷺ نے ایک رات کسی شخص کے گانے کی آواز سنی تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: اس کی نماز مقبول نہیں یہاں تک کے اس کے مثل پڑھ لے۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنے اہل خانہ کےلئے کوئی چیز خریدے، پھر وہ اسے اپنے ہاتھ سے اٹھا کر ان کے پاس لائے، تو اس کے ستر سال کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر سورۂ تبارک الذی پڑھے پھر چار مرتبہ کہے: ’’اللهم رب الحل والحرم والبلد الحرام، والركن، والمقام، والمشعر الحرام، بلغ روح محمد مني تحية وسلاما‘‘. اے حل، حرم، شہر حرام، رکن یمانی، مقام ابراہیم اور مشعر حرام کے پروردگار! میری طرف سے محمد ﷺ کی روح کو درود وسلام بھیج دیجئے، تو اللہ تعالی اس کے لئے دو فرشتے مقرر فرماتے ہیں، وہ دونوں محمد ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں، چنانچہ وہ دونوں آپ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں، اے محمد! فلاں بن فلاں نے آپ کو سلام پیش کیا ہے، تو آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے ہیں: میری طرف سے فلاں بن فلاں پر سلام ہو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں‘‘۔
روایت: ’’حضور ﷺ کا ارشاد ہے: جو عورت اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم محبت کی نظر سے دیکھے، اللہ رب العزت فیصلہ کرلیتے ہیں کہ میں قیامت کے دن اس کی طرف محبت کی نظر سے نہیں دیکھوں گا، اور جو مرد اس لئے بنے سنورے کہ اسے کوئی غیر محرم عورت محبت کی نظر سے دیکھے، اسے بھی اللہ تعالی قیامت کے دن محبت کی نظر سے نہیں دیکھےگا‘‘۔
روایت: ’’نبی e فرماتے ہیں: مجھے جبرائیل e نے قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے اتنا ڈرایا کہ میں رونے لگ گیا، میں نے کہا: اے میرے دوست جبرائیل! کیا اللہ رب العزت نے میرے اگلے اور پچھلے گناہوں کو معاف نہیں کردیا؟ یہ بات سن کر جبرائیل e نے جواب دیا: اے محمد ﷺ! قیامت کے دن آپ ہیبت کے ایسے احوال دیکھیں گے کہ آپ قیامت کی مغفرت کو بھول جائیں گے، نبی e یہ بات سن کر اتنا روئے کہ آپ ﷺ کے آنسوں آپ کی مبارک ریش پر بہنے لگے‘‘۔