روایت: ’’اگر کوئی شخص جماعت کا رہبر ہوگا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ رہبر بنا کر جنت میں لےجائیں گے‘‘،ان لفظوں کے ساتھ یہ حدیث نہیں ملی۔
تفصیل
’’سوال: بعض لوگ جماعت کی رہبری کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جماعت کا رہبر ہوگا قیامت کے دن اللہ میاں رہبر بنا کر جنت میں لےجائیں گے، کیا یہ روایت ٹھیک ہے یا نہیں ؟
جواب: یہ حدیث بالفاظِ مذکورہ فی السؤال تو نہیں ملی، لیکن بظاہر دو حدیثوں سے یہ مضمون ماخوذ ہے:
اول حدیث ’’مسلم‘‘×من دل على خير فله مثل أجر فاعله÷. [جو بھلائی کی جانب رہنمائی کرتا ہے اسے بھلائی کرنے والے کے اجر کی طرح اجر ملتا ہے] ثانی حدیث ’’مسلم‘‘ ایضاً ×من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة÷. [جو شخص حصول علم میں کوئی رستہ چلتا ہے، اللہ اس کی وجہ سے جنت کا راستہ اس کے لیے آسان فرمادیتے ہیں]
اس سے یہ مضمون اس طور پر ماخوذ ہے کہ دال علی الخیر مثل فاعل خیر کے ہے، اور یہ دلالت علم کا ایک طریق ہے، جس کے بارے میں دوسری حدیث میں ضمانت لی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستہ پر چلائیں گے، واللہ تعالیٰ اعلم‘‘[1]۔
حوالہ جات
[1]الیواقیت الغالیہ: جماعت کے رہبر کی فضیلت،۱/۴۳ - ۴۶۔