روایت: تشہد کی حالت میں جس شخص کی انگلیاں گھٹنوں سے نیچے ہوں گی تو وہ قیامت کے دن کاٹ دی جائیں گی۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس بندہ نے اپنے غصہ کے گھونٹ کو پیا، جبکہ وہ غصہ کو پورا کرنے کی حالت میں تھا، تو اللہ تعالی قیامت کے دن ہر ہر گھونٹ کے بدلہ میں اس بندے کو اپنا مشاہدہ عطا فرمائیں گے۔
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے کسی اجنبی (غیر محرم) عورت کی طرف دیکھا تو قیامت کے دن اس کی آنکھ میں انگارے ڈالے جائیں گے، اور ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ اس کی آنکھ میں قیامت کے دن فرشتے لوہے کی سلاخیں ڈالیں گے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے بہترین لوگ علماء ہیں، اور علماء میں بہترین حلم والے ہیں، خبر دار! بلاشبہ اللہ تعالی جاہل فحش گو کے ایک گناہ کو معاف کرنے سے پہلے رحم کرنے والے عالم کے چالیس گناہ معاف فرماتے ہیں ، اور رحم کرنے والا عالم جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے نور کی وجہ سے روشنی ہوجائے گی، چنانچہ وہ اس میں ایسے چلے گا جیسے روشن ستارہ چلتا ہے‘‘۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص سورۂ اخلاص چار سو مرتبہ پڑھے تو اس کے لئے چار سو شہیدوں کا ثواب لکھا جائے گا، ان میں ہر شہید ایسا ہوگا جس کا گھوڑا ذبح کردیا گیا ہواور اس کا خون بھی بہایا گیا ہو، اور اگر کوئی شخص اس کو ایک ہزار مرتبہ پڑھ لے تو اس وقت تک اس کا انتقال نہیں ہوگا جب تک وہ اپنا مقام جنت میں نہ دیکھ لے، یا جب تک اس کو جنت میں اس کا مقام نہ دکھلادیا جائے‘‘۔
روایت:مال داروں، مصیبت زدہ، نوجوانوں، غلاموں اور فقیروں سے اللہ تعالی کے حقوق کی کوتاہی سے متعلق قیامت کے دن سوال کا ہونا، اور حضرت سلیمان e کا بادشاہت، حضرت ایوب e کا ان کی بیماری،حضرت یوسف e کا خوبصورتی اور غلامی، حضرت عیسی e کا فقر کے باوجود اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ ہونا۔