روایت: ’’جو شخص ادب میں سستی کرے گا تو اسے سنت سے محرومی کی سزا دی جائے گی، اور جو شخص سنت میں سستی کرے گا تو اسے فرائض سے محرومی کی سزا دی جائے گی، اور جو شخص فرائض میں سستی کرے گا تو اسے معرفت سے محرومی کی سزا دی جائے گی‘‘۔
تفصیل
ملتی جلتی احادیث
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ الدنيا حلم، وأهلها عليها مجازون ومعاقبون‘‘. دنیا ایک خواب ہے، اور اہل دنیا کو اس پر جزا اور سزا دی جائے گی‘‘۔
روایت:’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’من ترك سنتي لم ينل شفاعتي‘‘. جس نے میری سنت ترک کی وہ میری شفاعت نہیں پائے گا‘‘۔
روایت: ’’روز قیامت مساجد کا سفید بختی اونٹوں کی شکل میں آنا، جسے موذنین آگے سے اور ائمہ پیچھے سے چلارہے ہوں گے، جس پر یہ لوگ قیامت کے تمام مراحل سے گزر جائیں گے، اور کہا جائے گا یہ امت محمدیہ s کے وہ افراد ہیں جو باجماعت نماز کی حفاظت کرتے تھے‘‘۔
روایت: ’’جس شخص کو یہ پسند ہوکہ وہ اللہ تعالی کا ہم نشین بنے، تو اس کو چاہیے کہ وہ صوفیہ کی ہم نشینی اختیار کرے‘‘۔
روایت: ’’معراج کے موقع پر نبی اکرمﷺ نے دیکھاکہ کچھ عورتیں کتوں کی مانند چیخ رہی ہیں، آوازیں نکال رہی ہیں، نوحہ کررہی ہیں اور ان کا برا حال ہے، نبی اکرمﷺ نے جبریل امین eسے پوچھا: یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں اپنے خاوندوں کے ساتھ زبان درازی کرتی تھیں، آج اللہ تعالی نے انھیں یہ سزا دی کہ یہ کتوں کی مانند آوازیں نکال رہی ہیں‘‘۔