روایت: جس شخص نے بھی کسی اجنبی عورت کی طرف شہوت کی نگاہسے دیکھا، تو قیامت کے دن اس کی آنکھوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔
حکم:حافظ جمال الدین زیلعی l،علامہ ابن ابی العز lاور حافظ ابن حجر عسقلانی l کے کلام کا حاصل یہی ہے کہ یہ روایت ان الفاظ سے سنداً نہیں ملتی،بلکہ حافظ بدر الدین عینیl نے صاف کہا ہے کہ ’’یہ صحیح نہیں ہے‘‘، اس لئے یہ روایت ان الفاظ سے رسول اللہ ﷺ کے انتساب سے بیان کرنا درست نہیں ہے۔
نیز یہ تمام ائمہ ساتھ ساتھ اس کی صراحت بھی فرماتے رہے ہیں کہ اس کے مقابلہ میں ’’صحیح بخاری‘‘میں موجود یہ الفاظ معروف ہیں: ’’جس نے لوگوں کی باتوں پر کان لگایا، جبکہ وہ اسے ناپسند سمجھتے ہوں، تو روز قیامت اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا ‘‘۔
تفصیل
روایت پر ائمہ کا کلام
حوالہ جات
[1] كتاب المبسوط للسرخسي:10/153،دار المعرفة ـ بيروت .
[2] الهداية:7/188،ت:نعيم أشرف نور أحمد،إدارة القرآن والعلوم الإسلامية ـ كراتشي ـ باكستان،الطبعة الأولى1417هـ .
[3] تبيين الحقائق:6/17،المطبعة الكبرى الأميرية ـ مصر،الطبعة الأولى1315هـ .
[4] الجوهرة النيرة:2/619،ت:إلياس قبلان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1427هـ .
[5] منحة السلوك في شرح تحفة الملوك:ص:409،ت:أحمد عبد الرزاق الكبيسي،إدارة الشؤون الإسلامية ـ قطر، الطبعة الأولى1428هـ .
[6] درر الحكام:1/314،مير محمد كتب خانة ـ كراتشي ـ باكستان .
[7] مجمع الأنهر:4/202،ت:خليل عمران المنصور،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .
[8] تكملة البحر الرائق:8/352،ت:زكريا عميرات،مكتبة رشيدية ـ كوئته ـ باكستان .
[9] نصب الراية:4/240،رقم:14،ت:محمد عوامة،مؤسسة الريان ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[10] التنبيه على مشكلات الهداية:۵/۷۸۳،ت:أنور صالح أبو زيد،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى 1424هـ .
[11] الدراية في تخريج أحاديث الهداية:۲/۲۲۵،رقم:949،ت:عبد الله هاشم اليماني،دار المعرفة ـ بيروت .
[12] البناية شرح الهداية:۱۲/۱۳۱،ت:أيمن صالح شعبان،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۰هـ .
[13] فتح باب العناية:۳/۵۱،ت:محمد نزار تميم و هيثم نزار تميم،شركة دار الأرقم ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[14] الصحيح للبخاري:9/42،ت:محمد زهير بن ناصر الناصر،دار طوق النجاة ـ بيروت،الطبعة الأولى 1422هـ .
’’صحیح بخاری ‘‘کی مکمل عبارت ملاحظہ ہو: ’’حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن أيوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: من تحلم بحلم لم يره كلف أن يعقد بين شعيرتين، ولن يفعل، ومن استمع إلى حديث قوم، وهم له كارهون، أو يفرون منه، صب في أذنه الآنك يوم القيامة، ومن صور صورة عذب، وكلف أن ينفخ فيها، وليس بنافخ، قال سفيان: وصله لنا أيوب‘‘.
ملتی جلتی احادیث
روایت: جس نے دس محرم کے دن اثمد سرمہ لگایا تواس کی آنکھ کبھی نہیں دکھے گی۔
روایت: آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی بیٹی کا نکاح کفو ملنے کے باوجود نہ کرے اس کو بیٹی کی ہر ماہواری کے بدلہ ایک پیغمبر قتل کرنے کا گناہ ملتا ہے، اور قیامت کے دن اسے یہ ماہواری پلائی جائے گی۔
روایت: ’’ إن لله ملكا لو قيل له: التقم السمواتوالأرضين السبع بلقمة واحدة، لفعل، تسبيحه:سبحانك حيث كنت‘‘.بےشک اللہ تعالی کا ایک فرشتہ ہےاگر اس سے کہا جائے:ساتوں آسمان و زمین ایک ہی لقمہ میں نگل لو،تو وہ ایسا کرلے گا، اس کی تسبیح یہ ہے: تو پاک ہے جہاں کہیں بھی ہے۔
روایت: اُس شخص کا منہ ٹیڑھا رہ جانا جس نے حضورﷺ کا نام تمسخر کے ساتھ لیا تھا۔
روایت: ’’أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى رجلا يعبث بلحيته في الصلاة، فقال: لو خشع قلبه، لخشعت جوارحه‘‘.آپ ﷺ نے ایک آ دمی کو دیکھا وہ نماز میں اپنی داڑھی سےکھیل رہاتھا،آپ ﷺ نے فرمایا: اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا، توضروراس کے اعضاء پُرسکون رہتے۔