روایت:’’ويقال: إن كل حرف من كلام الله عز وجل في اللوح المحفوظ أعظم من جبل قاف، وإن الملائكة لو اجتمعت على الحرف الواحد أن يقلوه ما أطاقوه، حتى يأتي إسرافيل، وهو ملك اللوح المحفوظ، فيرفعه، فيقله بإذن الله عز وجل ورحمته، إذ كان الله تعالى أطاقه ذلك لما استعمله به‘‘. اور کہا جاتا ہے: لوح محفوظ میں موجود اللہ عزوجل کے کلام کا ہر حرف جبل قاف سے بڑاہے، اور اگر فرشتے مل کر کسی ایک حرف کو اٹھانا چاہیں تو وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ لوح محفوظ کا فرشتہ اسرافیل e تشریف لاکر اللہ عزوجل کے حکم ورحمت سے اسے اٹھائے گا، کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو اس کے استعمال کی طاقت دے رکھی ہے۔
باب: فضائلِ قرآن
قرآن کریم، حافظِ قرآن، تلاوت اور ختمِ قرآن کی فضیلت۔
گروپ: قرآن
7 روایات
روایت: ’’آپ ﷺکا ارشاد ہے :دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو زنگ لگ جاتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! اس کی صفائی کیا ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا:قران کی تلاوت‘‘۔
حافظ قرآن کےلئے جنت میں رَیَّان نہر پر مرجان سے بنا شہر
آپ نے قرآن کریم کے اختتام پریہ دُعا ضرور مشاہدہ کی ہوگی،جسے دعاءِ ختم قرآن یا دعاءِ ماثورہ کے عنوان سے لکھا جاتا ہے :
’’اللّهم آنس وَحْشَتِي في قَبْرِي. اللّهم ارحَمْني بالقرآن العَظِیم، واجْعَلْه لي إماماً ونُوراً وهُدىً ورَحْمَةً، اللّهم ذَکِّرْني منه ما نَسِیْتُ، وعَلِّمْنِي منه ما جَهِلْتُ، وارْزُقْنِي تِلَاوَتَه آناءَ اللیل وآناءَ النَّهار، واجْعَلْه لي حُجَّةً یا رَبَّ العَالَمِین‘‘.
روایت: قبر کا حافظ قرآن کے بارے میں کہنا کہ میں حافظِ قرآن کاگوشت کیسے کھاسکتی ہوں جبکہ اس کے پیٹ میں اللہ کا کلام ہے۔
روایت: ’’اللہ تعالیٰ زمین والوں پر عذاب بھیجنے کا ارادہ فرماتے ہیں، پھر جب بچوں کی قرآنی تعلیم کو سنتے ہیں تو عذاب کو ہٹالیتے ہیں‘‘، یہ روایت کہیں نہیں ملی۔
روایت: ’’کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں،جن پر قرآن خود لعنت کرتا ہے‘‘،انتہائی تلاش کے باوجود اس کی سند نہیں مل سکی ہے۔