التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

باب: سخاوت و خدمتِ خلق

صدقہ، سخاوت، مہمان نوازی، خدمت اور مسلمانوں کے حقوق۔

گروپ: معاشرت

8 روایات

  1. روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أودع كريما معروفا فقد استرقه، ومن أولى لئيما معروفا فقد استجلب عداوته، ألا ! وإن الصنائع لأهل السعادة‘‘. جو شخص کریم پر احسان کرتا ہے اس کو غلام بنا لیتا ہے، اور جو ذلیل شخص پر احسان کرتا ہے اس کی دشمنی اپنی طرف کھینچتا ہے، توجہ سے سنو! تمام احسانات سعادت مندوں کےلئے ہیں‘‘۔

  2. روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔

  3. روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔

  4. روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’السخي إنما يجود من حسن الظن بالله، والبخيل إنما يبخل من سوء الظن بالله‘‘. جو شخص سخاوت کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے کرتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے وہ حق تعالی شانہ کے ساتھ بدظنی سے کرتا ہے‘‘۔