روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أودع كريما معروفا فقد استرقه، ومن أولى لئيما معروفا فقد استجلب عداوته، ألا ! وإن الصنائع لأهل السعادة‘‘. جو شخص کریم پر احسان کرتا ہے اس کو غلام بنا لیتا ہے، اور جو ذلیل شخص پر احسان کرتا ہے اس کی دشمنی اپنی طرف کھینچتا ہے، توجہ سے سنو! تمام احسانات سعادت مندوں کےلئے ہیں‘‘۔
باب: سخاوت و خدمتِ خلق
صدقہ، سخاوت، مہمان نوازی، خدمت اور مسلمانوں کے حقوق۔
گروپ: معاشرت
8 روایات
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے، میں اس کے ترازو کے پاس کھڑا رہوں گا، اگر اس کی نیکیاں بڑھ گئیں تو بہت ہی اچھا، نہیں تو میں اس کی سفارش کروں گا‘‘۔
روایت: مہمانو ں کے ساتھ بلاؤں کا گھر سے چلے جانا۔
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے زبیر! اللہ جل شانہ سخاوت کو پسند کرتا ہے چاہے وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو، اور اللہ تعالی بہادری کو پسند کرتا ہے چاہے وہ سانپ اور بچھو ہی کے مارنے میں کیوں نہ ہو‘‘، بعض مقامات پر یہی قول حضرت عمران بن حصین r کو مخاطب بنا کر فرمایا گیا ہے۔
روایت: ’’ایک بچے کا اپنی ماں کےلئے لباس لینے کےلئے چچا کے پاس جانا، اور چچا کا لباس دینے سے انکار کرنا، پھر بچے کا کسی کے کہنے پر آپﷺ کے پاس جاکر لباس کا مطالبہ کرنا اور ساتھ میں یہ کہنا کہ میں آپ کا اسلام قبول نہیں کروں گا، حضورﷺ کا اس بچے کو اپنی چادر دینا، اس پر اس بچے کی ماں کا کہنا کہ حضورﷺ کے اسلام کو قبول کرنا چاہئے‘‘۔
خدمت کرنے والوں کا اجر شہیدوں کے برابر
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’السخي إنما يجود من حسن الظن بالله، والبخيل إنما يبخل من سوء الظن بالله‘‘. جو شخص سخاوت کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ حسن ظن کی وجہ سے کرتا ہے، اور جو بخل کرتا ہے وہ حق تعالی شانہ کے ساتھ بدظنی سے کرتا ہے‘‘۔
روایت: ’’مؤمن کے دل کو خوش کرنا ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے‘‘، یہ حدیث ان لفظوں کے ساتھ اب تک نہیں ملی، غالباً اس کا مضمون ایک دوسری حدیث سے ماخوذ ہے۔