اس روایت کی تحقیق سے
حافظ قرآن کےلئے جنت میں رَیَّان نہر پر مرجان سے بنا شہر
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی کثیر بن سلیم ضبی بصری مدائنی (المتوفی ۱۷۰ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابو حاتم l فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، منكر الحديث، لا يروي عن أنس حديثا له أصل من رواية غيره‘‘[3].یہ ضعیف الحدیث ومنکر الحدیث ہے، یہ انس r سے ایسی کوئی حدیث نقل نہیں کرتے جس کی اصل ان کے علاوہ کسی دوسرے راوی کی روایت میں پائی جاتی ہو۔
امام ابوزرعہ l نے اسے ’’واهي الحدیث‘‘ کہا ہے۔[4]
امام بخاری l فرماتے ہیں: ’’كثير أبو هشام أراه ابن سليم، عن أنس: منكر الحديث‘‘[5].کثیر ابوہشام، میرے گمان کے مطابق یہ ابن سلیم ہے، انس r سے روایت کرتا ہے، یہ منکر الحدیث ہے۔
امام یحیی بن معینl نے اسے ’’ضعیف‘‘ کہاہے،[6] نیز ایک دوسرے مقام پر ’’ لايكتب حديثه‘‘[7] فرمایاہے۔
امام نسائیl نے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[8] میں کثیر بن سلیم کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہاہے۔
حافظ ابن عدی l ’’الكامل في الضعفاء‘‘[9] میں کثیر بن سلیم کی احادیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’وعامة ما يروى عن كثير بن سليم، عن أنس هو هذا الذي ذكرت، ولم يبق له إلا الشيء اليسير، وهذه الروايات عن أنس عامتها غير محفوظة‘‘.کثیر بن سلیم کی انس r سے جتنی بھی روایات بیان کی گئی ہیں ان میں اکثر میں یہاں ذکر کرچکا ہوں، اور چند ایک ہی ذکر کرنے سے رہ گئی ہیں، اور کثیر بن سلیم کی انس r سے یہ تمام روایات غیر محفوظ ہیں۔
حافظ ابو الفتح ازدی l نے کثیر بن سلیم کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔[10]
علامہ سبط ابن عجمیl ’’الکشف الحثیث‘‘[11] میں فرماتے ہیں: ’’الكلام فيه معروف، وفيه أنه متروك‘‘.اس پر ائمہ کا کلام معروف ہے، جس میں اس کے متروک ہونے کا ذکر ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’تقريب التهذيب‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’ضعيف، من الخامسة، وهو غير كثير بن عبد الله الأبلي، ووهم ابن حبان فجعلهما واحدا، ق‘‘.یہ ضعیف ہے، پانچویں طبقہ کے روات میں سے ہے، اور یہ کثیر بن عبداللہ ابلی کے علاوہ ہے، ابن حبان l کو وہم ہوا ہے، چنانچہ انہوں نے ان دو الگ الگ راویوں کو ایک شمار کیا ہے، اور یہ سنن ابن ماجہ کے روایوں میں سے ہے۔
حافظ ذہبی l ’’الکاشف‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه‘‘. ائمہ نے اس کی تضعیف کی ہے۔
حوالہ جات
[3] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[4] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[5] ميزان الاعتدال:۳/۴۰۵،رقم:۶۹۴۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفةـ بيروت .
[6] الجرح والتعديل:۷/۱۵۲،رقم:۸۴۶،دار الكتب العلميةـ بيروت،الطبعة۱۳۷۲هـ .
[7] تهذيب الكمال:۲۴/۱۲۰،رقم:۴۹۴۳،ت:بشارعوادمعروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .
[8] الضعفاء والمتروکین:ص:۲۲۹،رقم:۵۰۹،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۰۶هـ
[9] الكامل:7/۲۰۰،رقم:۱۶۰۰،ت:عادل أحمدو علي محمد معوض،دار الكتب العلميةـ بيروت .
[10] تهذيب الكمال:۲۴/۱۲۰،رقم:۴۹۴۳،ت:بشارعوادمعروف،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۳هـ .
[11] الكشف الحثيث:ص:۲۱۲،رقم:۵۹۷،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربيةـ بيروت:۱۴۰۷هـ .
[12] التقريب:ص:۴۵۹،رقم:۵۶۱۳،ت:محمد عوامة،دار الرشيدـ حلب،الطبعة الثالثة۱۴۱۱هـ .
[13] الكاشف:۲/۱۴۴،رقم:۴۶۳۳،ت:محمد عوامة،أحمد محمد نمر الخطيب،دار القبلة للثقافة الإسلامية ـ جده،الطبعة۱۴۱۳هـ .