اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ اے اللہ کے رسول! کیا میرا کالا رنگ اور میرے چہرے کی بد صورتیمیرے جنت میں داخلے سے مانع ہے‘‘، اس قصہ میں یہ بھی ہے کہ یہصحابی r اپنے نکاح کا سامان خریدنے بازار گئے، جہاں جہاد فی سبیل اللہکی آواز لگی تو یہ نکاح کا سامان لینے کے بجائے سامانِ جہاد خرید کر جہادمیں شریک ہو ئے اور وہاں شہید ہوگئے، اس قصہ کے آخر میں ہےکہان کی شہادت کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’میرا اس سے چہرا پھیرنااس وجہ سے تھا کہ میں نے حور عین بیویوں کو دیکھا جوکھلی پنڈلیوں اورآشکارہ پازیب کے ساتھ تیزی سے اس کی جانب آرہی تھیں، چنانچہ میں نے حیاء کی وجہ سے ان سے چہرا پھیر لیا ‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی محمد بن عمر بن صالح کلاعی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[11] میں لکھتے ہیں: ’’شيخ، يروي عن أهل البصرة، منكر الحديث جدا، روى عنه سويد بن سعيد الأنباري، استحق ترك الاحتجاج بحديثه إذا انفرد‘‘.
یہ شیخ ہے، اہل بصرہ سے روایت کرتا ہے، منکر الحدیث ہیں، اس سے سوید بن سعید انباری روایت کرتا ہے، جب یہ کسی حدیث میں متفرد ہو تو اس کی حدیث سے احتجاج ترک کئے جانے کا استحقاق ہوجاتا ہے۔
اس کے بعد حافظ ابن حبانl نے زیر بحث روایت تعلیقاً درج کی ہے۔
حافظ ابن حبانl کے کلام پر حافظ ذہبیl نے ’’ميزان الاعتدال‘‘[12] میں اعتماد کیا ہے، نیز بذاتِ خود حافظ ذہبی l نے ’’دیوان الضعفاء‘‘[13] میں محمد بن عمر کلاعی کو ’’منکر الحدیث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عدیl نے ’’الكامل‘‘[14] میں محمد بن عمر کلاعی کو ’’منکر الحدیث عن ثقات الناس‘‘ فرما کر یہ روایت تخریج کی ہے، پھر فرماتے ہیں:
’’محمد بن عمر ليس بذاك المعروف، إنما ذكرته لشرطي في أول الكتاب مهما أنكرته من حديث فإني أذكره في كتابي وأبين حاله ولم نجد للمتقدمين فيه كلاما على أنهم قد تكلموا فيمن هو خير منه إلا أنهم لم يبلغهم حاله لأن محمد بن عمر هذا ليس بذاك المعروف‘‘.
محمد بن عمر ’’ليس بذاك المعروف‘‘ہے،جب میں نے ان کی احادیث میں منکر احادیث حدیثیں پائیں تو اسے یہاں ذکر کردیا، کیونکہ میں کتاب کے شروع میں بتاچکا ہوں کہ میں اپنی اس کتاب میں ایسے راویوں کو ذکر کروں گا اور ان کا حال بیان کروں گا، اور ہمیں ان کے بارے میں متقدمین کا کلام نہیں ملا، باوجودیکہ وہ ان سے بہتر لوگوں کے بارے میں بھی کلام کرتے ہیں، ہاں بات یہ ہوگی کہ اُن کو ا ِن کی حالت کے بارے میں بات نہیں پہنچی ہوئی ہوگی، کیونکہ محمد بن عمر ’’ليس بذاك المعروف‘‘ہے۔
حافظ ابن عدیl کے کلام’’منکر الحدیث عن الثقات‘‘پر حافظ مقدسیl نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[15] میں اکتفاء کیا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[16] میں محمد بن عمر کلاعی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے لکھتے ہیں: ’’روى عن الحسن و قتادة حديثا موضوعا‘‘. حسن اور قتادہ سے من گھڑت حدیث روایت کرتا ہے۔
حوالہ جات
[11] المجروحين:2/291،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[12] ميزان الاعتدال:3/667،رقم:7997،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفةـ بيروت .
[13] دیوان الضعفاء:ص:۳۶۸،رقم:۳۹۰۴،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مکتبة النهضیة الحدیثة - مکة المکرمة، الطبعة:۱۳۸۷ هـ .
[14] الكامل:7/4۳۴،رقم:1683،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية - بيروت .
[15] ذخيرةالحفاظ:ص:1069،رقم:2274،ت:عبد الرحمن الفريوائي،دارالسلف ـ الرياض،الطبعة ۱۴۱۶هـ .
[16] تنزيه الشريعة:1/111،رقم:224،ت:عبدالوهاب عبداللطيف،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴01هـ .