اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’الكريم إذا قدر عفا ‘‘ .کریم جب قابو پالیتا ہے تو معاف کردیتا ہے۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ پنجم)روایت بطریق ابوہریرہ r کی سند میں موجود راوی محمد بن زکریا غَلابی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
ان کے بارے میں امام بیہقی l کا کلام گزر چکا ہے، دیگر ائمہ کے اقوال ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ ابن حبانl نے محمد بن زکریا غلابی کو ’’ثقات ‘‘[9] میں ان الفاظ سے ذکر کیا ہے،فرماتے ہیں: ’’ كان صاحب حكايات وأخبار،,يعتبر حديثه إذا روى عن الثقات، لأنه في روايته عن المجاهيل بعض المناكير‘‘.
یہ حکایات اور خبریں بیان کرتا تھا، اور اس کی حدیث کا اعتبار اس وقت کیا جائے گا جب یہ ثقہ سے روایت کرے، کیونکہ اس کی روایت میں مجاہیل سے بعض مناکیر منقول ہیں۔
امام دار قطنی l ’’الضعفاء والمتروكون‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’يضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑتا تھا۔
حافظ ذہبی l نے ’’المغني‘‘[11] اور ’’ديوان الضعفاء‘‘[12] میں، علامہ سیوطی l نے ’’ذيل‘‘[13] میں،اور علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[14] میں امام دار قطنی l کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی lنے ’’التلخيص الحبير‘‘[15] میں محمد بن زکریا غَلابی کو ’’ضعیف جداً ‘‘کہا ہے۔
حوالہ جات
[9] الثقات:9/154،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن، الطبعةالأولى1393هـ .
[10] الضعفاءوالمتروكون:ص:350،رقم:483،ت:موفق بن عبد الله،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰4هـ .
[11] المغنی:2/196،رقم:5512،ت:نور الدين عتر،إدارة إحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[12] ديوان الضعفاء:ص:351،رقم:3712،ت:حماد بن محمدالانصاري،مكتبة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .
[13] ٍذيل اللآلئ: ص:193،رقم:314،ت:زياد النقشبندي الأثري،الطبعة الأولى1432هـ .
[14] تنزيه الشریعة:۱/ 105،رقم:118،ت:عبد الله الغماري،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۳۹۹هـ .
[15] تلخيص الحبير:4/84،ت:عادل أحمد وعلي محمد معوض،دارالكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1419هـ .