التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

محمد بن اشعث

ایک روایت میں تذکرہ

محمد بن اشعث کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

محمد بن اشعث کے بارے میں ائمہ کرام کے اقوال:

(۱)حافظ ابو احمد بن عدیl کا کلام:

حافظ ابو احمد ابن عدی l ’’الکامل في الضعفاء‘‘[6]  میں لکھتے ہیں:

’’کتبتُ عنه بها [بمصر]حَمَلَه شدّةُ مَیْلِه إلی التشیّع أن أخرج إلینا نسختَه قریباً من ألف حدیث، عن موسی بن إسماعیل بن موسی بن جعفر بن محمد، عن أبیہ عن جدّه إلی أن ینتهي إلی عليّ والنبي صلی اﷲ علیه وسلّم کتاب کتاب [کذا في الأصل] یخرجه إلینا بخطّ طريّ علی کاغذ جدید فیها مقاطیع، وعامتها مسندة، مناکیر کلّها أو عامتها، فذکرنا روایته هذه الأحادیث عن موسی هذا، لأبي عبد اﷲ الحُسین بن علي بن الحسن بن علي بن عمر بن علي بن الحُسین بن علي بن أبي طالب، وکان شیخاً من أهل البیت بمصر، وهو أخ الناصر وکان أکبر منه، فقال لنا: موسی هذا جاري بالمدینة أربعین سنة، ماذَکَرَ قط أنَّ عنده شیئاً من الروایة لا عن أبیه ولا عن غیره‘‘.

میں نے مصر میں ’’محمد بن أشعث‘‘ سے روایتیں لکھی تھیں،تشیع کی طرف ان کے شدید میلان نے ان کو اس بات پر ابھارا کہ ہمارے سامنے ایک ہزار احادیث پر مشتمل ایک نسخہ نکالا، جس کی حدیثیں اس سند سے تھیں: موسی بن إسماعیل بن موسی بن جعفر بن محمد، عن أبیه، عن جدّه، إلى أن ینتهي إلى عليّ  والنبي صلى اﷲ علیه وسلّم .

(یعنی سند میں موجود موسی نے اپنی سند سے بواسطہ حضرت علی r، حضورﷺ سے روایات نقل کی تھیں) ’’محمدبن أشعث‘‘ ہمارے سامنے ایک کتاب لائے، اس کتاب میں موجود نئے کاغذ پر تازہ خط سے لکھا گیا تھا، اس نسخے کی اکثر حدیثیں مسند تھیں، جو سب کی سب یا اکثر مناکیر تھیں، ہم نے ابو عبداللہ حسین بن علی سے تذکرہ کیا کہ یہ احادیث ’’محمد بن اشعث‘‘ نے ’’موسی‘‘ سے نقل کی ہے، یہ’’ ابو عبد اللہ‘‘ مصر میں اہل بیت کے شیخ تھے،جو ابو عبداللہ ناصر کے بھائی ،اور عمر میں ان سے بڑے تھے، ابو عبد اللہ حسین بن علی نے ہمیں بتایا کہ یہ ’’موسی‘‘ (یعنی جن سے ’’محمد بن اشعث‘‘ نے یہ احادیث نقل کی ہے) چالیس برس تک مدینہ آتے رہے ہیں، اس نے تو کبھی بھی اس کا تذکرہ نہیں کیاکہ اس کے پاس ایسی کوئی روایتیں ہیں، نہ اپنے والد سے نقل کی اور نہ ہی کسی اور سے۔

اس کے بعد حافظ ابن عدیl نے’’ابن الاشعث ‘‘کی روایات تخریج کی، پھر لکھتے ہیں:

’’وهذه النسخة کتبتُها عنه، وهي قریبة من ألف حدیث، وکتبتُ عامتها عنه، وهذه الأحادیث وغیرها من المناکیر في هذه النسخة، وفیها أخبار مما یوافق متونُها متونَ أهل الصدق، وکان مُتَّهَماً في هذه النسخة، ولم أجد له فیها أصلا، کان یخرج إلینا بخط طَرِيٍّ وکاغذ جدید‘‘.

میں نے’’ محمد ابن اشعث ‘‘کا یہ نسخہ ان سے لکھ لیا تھا، اور وہ تقریباً ایک ہزار حدیثوں پر مشتمل تھا، میں نے اس نسخے کی اکثر روایتیں ’’محمد بن اشعث‘‘ سے لکھی تھیں، اور یہ حدیثیں (جو ابن عدیl نے ماقبل میں ذکر کی ہیں) اور اس کے علاوہ مناکیر اس نسخے میں موجود ہیں، اور اس نسخے میں ایسے متون بھی ہیں، جو ’’اہل صدق‘‘ کے متون کے موافق ہیں، اور اس نسخے میں’’ محمد ابن اشعث‘‘ متہم ہے،اوراس نسخے کی اصل مجھے نہیں ملی، جسے ’’ابن الاشعث‘‘نئے کاغذ اور تازہ خط کے ساتھ ہمارے پاس لایا تھا۔

(۲)حافظ ذہبیl کا کلام:

حافظ ذہبیl، حافظ ابن عدیl کا کلام اختصاراًنقل کرکے لکھتے ہیں:

’’قال السَهْمِي: سألتُ الدارَ قطني عنه، فقال: آیة من آیات اﷲ، وضع ذاک الکتاب، یعني العَلَوِیَّات‘‘[7].

سہمیlفرماتے ہیں کہ میں نے دار قطنیl سے ’’محمد بن اشعث‘‘ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ’’ ابن اشعث‘‘، اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے (جرح)، جس نے اس کتاب کو گھڑا ہے،یعنی ’’عَلَوِیَّات‘‘ (حضرت علی r کی طرف منسوب روایتیں)۔

(۳)حافظ ابن حجر l کا کلام:

حافظ ابن حجرl ’’لسان المیزان‘‘[8]  میں حافظ ذہبیl کا کلام نقل کرکے لکھتے ہیں:

’’وقد وقفتُ علی بعض الکتاب المذکور، وسمّاه ’’السنن‘‘ ورتّبه علی الأبواب، وکلّه بسند واحد، وأورد الدارَ قطني في ’’غرائب مالک‘‘ من روایته، عن محمد بن سعدان البزار، عن القعنبي حدیثاً، وقال: کان ضعیفاً‘‘.

مجھے اس کتاب کے بعض حصے پر واقفیت ہوئی ہے،اور محمد بن اشعث نے اس کا نام ’’سنن‘‘ رکھا تھا، جسے اس نے ابواب پر مرتب کیا تھا، اور تمام حدیثیں ایک ہی سند سے تھیں، اور دار قطنیlنے ’’غرائب مالک‘‘ میں اس کی ایک روایت نقل کی ہے، جو اس نے محمد بن سعدان ،اور محمد بن سعدان نے قعنبی سے نقل کی تھی، اور دار قطنی l نے کہا ہے کہ’’ ابن اشعث ‘‘ضعیف ہے۔

حوالہ جات

[6] الكامل في الضعفاء:7/565،رقم:1791،ت:الشيخ عادل أحمد عبد الموجود  وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[7] ميزان الاعتدال:4/28،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[8] لسان الميزان:7/476،رقم:7357 ،ت:شيخ عبد الفتاح أبو غدة،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ