اس روایت کی تحقیق سے
نیند اچاٹ ہونے کی مشہور دعا:’’اللّهم غارت النجوم، وهدأت العيون....‘‘.
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی عمرو بن حصین کلابی بصری عقیلی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ عبد الرحمن l ’’الجرح والتعديل‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’سمع منه أبي، وقال: تركت الرواية عنه، ولم يحدثنا بحديثه، وقال: هو ذاهب الحديث، ليس بشيء‘‘. میرے والد ابو حاتم l نے ان سے احادیث سنی تھیں، اور وہ کہتے تھے کہ میں نے ان سے روایت کو ترک کردیا تھا، اور وہ ہمیں ان کی حدیث بیان نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے: یہ ذاہب الحدیث، لیس بشیء ہے۔
حافظ عبد الرحمٰن l ہی ’’الجرح والتعديل‘‘[16] میں لکھتے ہیں: ’’وسئل أبو زرعة عنه عند ما امتنع من التحديث عنه، فقال: ليس هو في موضع يحدث عنه، هو واهي الحديث‘‘. جس وقت ابو زرعہl عمرو بن حصین کی احادیث نقل کرنے سے رک گئے تو اس بارے میں ان سے پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: وہ ایسے مقام کا حامل نہیں ہے کہ اس کی حدیثیں بیان کی جائیں، وہ ’’واہی الحدیث‘‘ہے۔
حافظ خطیب بغدادی l فرماتے ہیں: ’’وكان كذابا ‘‘[17] . اور یہ جھوٹا تھا۔
حافظ ابن عدی l فرماتے ہیں: ’’حدث بغير حديث عن الثقات منكر‘‘[18]. یہ ثقہ لوگوں کے انتساب سے کئی منکر احادیث نقل کرتا ہے۔
حافظ دار قطنی l نے عمرو بن حصین کو ’’متروک‘‘[19] کہا ہے۔
حافظ ذہبی l عمرو بن حصین کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ضعفوه جدا‘‘[20] . محدثین نے اس کو شدید ضعیف کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ایک دوسری روایت کے تحت عمرو بن حصین کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وعمرو بن الحصين متروك باتفاقهم، واتهمه بعضهم بالكذب، والله المستعان‘‘. محدثین کے نزدیک عمرو بن حصین اتفاقی طور پر متروک ہے، بعض نے اسے متہم بالکذب بھی کہا ہے، واللہ المستعان۔[21]
حوالہ جات
[15] الجرح التعديل:۶/229،رقم:1272،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[16] الجرح التعديل:۶/229،رقم:1272،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .
[17] نتائج الأفكار:3/111،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .
[18] ميزان الاعتدال:3/253،رقم:6351،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[19] ميزان الاعتدال:3/253،رقم:6351،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[20] المغني في الضغفاء:2/63،رقم:4643،ت:نور الدين عتر،إدارةإحياء التراث الإسلامي ـ قطر .
[21] نتائج الأفكار:2/411،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دارابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .