التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

عمرو بن ابی عمرو

المتوفی 157ھایک روایت میں تذکرہ

عمرو بن ابی عمرو کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

ابو عبد اللہ عمرو بن شمر جعفی کوفی یعنی عمرو بن ابی عمرو (المتوفی 157ھ) کے بارے میں ائمہ کا کلام

 امام بخاریl نے ’’التاریخ الکبیر‘‘[9] میں عمرو بن شمر کو ’’منکر الحدیث‘‘  کہا ہے۔

امام نسائیl نے  ’’الضعفاء والمتروکون‘‘[10] میں عمرو بن شمر کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے۔

حافظ عمرو بن علی فلاس l کہتے ہیں: ’’عمرو بن شمر منكر الحديث، حدث بأحاديث منكرة‘‘. عمرو بن شمرمنكر الحديث ہے، اس نے منکر روایتیں  نقل کی ہیں[11]۔

حافظ یحیی بن معینl نے عمرو بن شمر کو  ’’لیس بثقة‘‘  کہا ہے[12]۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’منكر الحديث جدا، ضعيف الحديث، لا يشتغل به، تركوه‘‘.یہ بہت زیادہ منکر الحدیث ہے، ضعیف الحدیث ہے، ان کی روایات سے اشتغال نہیں کیا جائے گا، محدثین نے ان کو ترک کردیا ہے[13]۔

 حافظ ابو زرعہl نے عمرو بن شمر کو ’’ضعیف الحدیث‘‘ کہا ہے[14]۔

حافظ جوزجانیl نے ’’أحوال الرجال‘‘[15] میں عمرو بن شمر کو   ’’ كذاب زائغ‘‘فرمایا ہے۔

حافظ ابن سعدl  ’’الطبقات الکبرى‘‘[16] میں لکھتے ہیں:  ’’عمرو بن شمر الجعفي، وكان إمام مسجد جعفي ستين سنة، وكان قاصا، وكانت عنده أحاديث، وكان ضعيفا جدا، متروك الحديث‘‘. عمرو بن شمر جعفی، جعفی مسجد کے ساٹھ سال تک امام رہے،اور قصہ گو تھے، ان کے پاس احادیث تھیں، اور یہ ضعیف جداً، متروک الحدیث تھا۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[17]  میں فرماتے ہیں: ’’ كان رافضيا، يشتم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان ممن يروي الموضوعات عن الثقات في فضائل أهل البيت وغيرها، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة التعجب‘‘.عمرو بن شمر رافضی تھا، رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو برا بھلا کہتا تھا، اور ان لوگوں میں سے تھا جو ثقہ راویوں کے انتساب سے اہل بیت وغیرہ کے من گھڑت فضائل نقل کرتے تھے، اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے سوائے تعجب کے۔

حافظ ابن  عدیl  ’’الکامل‘‘[18] میں عمرو بن شمر کی روایات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولعمرو بن شمر غير ما ذكرت، وعامة ما يرويه غير محفوظ‘‘.عمرو بن شمر کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی روایات ہیں اور عموماً اس کی مرویات محفوظ نہیں ہیں۔  

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[19]  میں فرماتے ہیں:  ’’عمرو بن شمر الجعفي كثير الموضوعات عن جابر الجعفي وغيره، وإن كان جابرا الجعفي عند القوم مجروحا، وليس راوي تلك الموضوعات الفاحشات عنه غير عمرو بن شمر الجعفي، فوجب أن يكون الحمل فيها عليه‘‘.

عمرو بن شمر جعفی، جابر جعفی اور اس کے علاوہ سے بہت زیادہ من گھڑت روایات نقل کرتا ہے، اگر چہ جابر جعفی محدثین کے نزدیک مجروح ہے اور جابر جعفی سے ان فاحش موضوعات کو نقل کرنے والا عمرو بن شمر کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں، لہذا ثابت ہوا کہ ان من گھڑت روایات کی ذمہ داری عمرو بن شمر پر ہے۔

حافظ ابو نعیمl  ’’الضعفاء‘‘[20] میں فرماتے ہیں:  ’’عمرو بن شمر الجعفی یروی عن جابر الجعفی بالموضوعات المناکیر‘‘ .عمرو بن شمر جعفی، جابر جعفی سے من گھڑت  اور منکر روایتیں نقل کرتا ہے۔

امام دارقطنیl نے عمرو بن شمر کو  ’’متروک‘‘ كہا ہے[21] ۔

حافظ ابو الفضل احمد بن علی سلیمانیl فرماتے ہیں:  ’’ کان عمرو یضع على الروافض‘‘[22].  عمرو روافض پر احادیث گھڑتا تھا۔

حافظ ذہبیl نے  ’’دیوان الضعفاء‘‘[23] میں عمرو بن شمر کو  ’’رافضی، متروک‘‘ کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی l نے  ’’نتائج الأفكار‘‘ [24] میں عمرو بن شمرو کو  ’’متروک‘‘  کہا ہے۔

حوالہ جات

[9] التاريخ الكبير:6/158،رقم:8654 ،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

[10] الضعفاء والمتروكون:ص:176،رقم:451،ت:عبد العزيز عز الدين السيروان،دار القلم ـ بيروت،الطبعة الأولى1405هـ .

[11] الجرح والتعديل:6/239،رقم:1324،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[12] الجرح والتعديل:6/239،رقم:1324،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[13] الجرح والتعديل:6/239،رقم:1324،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[14] الجرح والتعديل:6/239،رقم:1324،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[15] أحوال الرجال:ص73،رقم:46،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،دار الطحاوي ـ الرياض،الطبعة الأولى1411هـ .

[16] الطبقات الكبرى:6/356،رقم:2661،ت:محمد عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية1418هـ .

[17] كتاب المجروحين:2/75،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفةـ بيروت .

[18] الكامل في ضعفاء الرجال:6/230،رقم:1292،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[19] المدخل إلى الصحيح:ص157،رقم:102،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[20] كتاب الضعفاء:ص118،رقم:165،ت:فاروق حمادة،مطبعة النجاح الجديدة .

[21] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:53،رقم:371،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور ـ باكستان،الطبعة الأولى1404هـ .

[22] انظرميزان الاعتدال:3/269،رقم:6384،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[23] ديوان الضعفاء:1/303،رقم:3183،ت:حماد بن محمد الأنصاري،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة .

[24] نتائج الأفكار:4/296،ت:حمدي عبد المجيد السلفي،دار ابن كثير ـ بيروت،الطبعة الثانية1429هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ