التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

زید بن موسی المعروف بالحرق

ایک روایت میں تذکرہ

زید بن موسی المعروف بالحرق کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی زید بن موسی المعروف بالحرق کے مختصر حالات

حافظ ابو جعفر ابن جریر طبری l اپنی ’’تاريخ‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’والذي كان بالبصرة من الطالبيين زيد بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن حسين بن علي بن أبي طالب، ومعه جماعة من أهل بيته، وهو الذي يقال له زيد النار، وإنما سمي زيد النار لكثرة ما حرق من الدور بالبصرة من دور بني العباس وأتباعهم، وكان إذا أتي برجل من المسودة كانت عقوبته عنده أن يحرقه بالنار، وانتهبوا بالبصرة أموالا، فأخذه علي بن أبي سعيد أسيرا، وقيل إنه طلب الأمان فآمنه‘‘.

اور بصرہ میں طالبیین میں زید بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب تھے، اور ان کے ساتھ ان کے اہلِ بیت کی ایک جماعت تھی، یہ وہی ہے جن کو ’’زید النار‘‘کہا جاتا ہے، ان کو ’’زید النار‘‘ کا نام اس وجہ سے دیا گیا کہ اس زید نے بصرہ میں بنو عباس اور ان کے متبعین کے گھروں کو کثرت سے جلایا تھا، جب ان کے پاس ’’مسودہ‘‘میں سے کوئی شخص لایا جاتا تو اس کے نزدیک اس کی سزا یہ تھی کہ وہ اسے آگ میں جلا دیتا تھا، اور ان لوگوں نے بصرہ میں بہت سا مال لوٹا تھا، پھر علی بن ابی سعید نے اسے پکڑ کر قید کر دیا، اور کہا جاتا ہے کہ اس نے امن مانگا تو علی بن ابی سعید نے اسے امن دے دیا۔

حوالہ جات

[6] تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك:۸/۵۳۵،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار المعارف ـ مصر،الطبعة الثانية1387هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ