اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من أودع كريما معروفا فقد استرقه، ومن أولى لئيما معروفا فقد استجلب عداوته، ألا ! وإن الصنائع لأهل السعادة‘‘. جو شخص کریم پر احسان کرتا ہے اس کو غلام بنا لیتا ہے، اور جو ذلیل شخص پر احسان کرتا ہے اس کی دشمنی اپنی طرف کھینچتا ہے، توجہ سے سنو! تمام احسانات سعادت مندوں کےلئے ہیں‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (گیارہواں حصہ)سند میں موجود راوی زید بن موسی المعروف بالحرق کے مختصر حالات
حافظ ابو جعفر ابن جریر طبری l اپنی ’’تاريخ‘‘[6] میں فرماتے ہیں: ’’والذي كان بالبصرة من الطالبيين زيد بن موسى بن جعفر بن محمد بن علي بن حسين بن علي بن أبي طالب، ومعه جماعة من أهل بيته، وهو الذي يقال له زيد النار، وإنما سمي زيد النار لكثرة ما حرق من الدور بالبصرة من دور بني العباس وأتباعهم، وكان إذا أتي برجل من المسودة كانت عقوبته عنده أن يحرقه بالنار، وانتهبوا بالبصرة أموالا، فأخذه علي بن أبي سعيد أسيرا، وقيل إنه طلب الأمان فآمنه‘‘.
اور بصرہ میں طالبیین میں زید بن موسی بن جعفر بن محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب تھے، اور ان کے ساتھ ان کے اہلِ بیت کی ایک جماعت تھی، یہ وہی ہے جن کو ’’زید النار‘‘کہا جاتا ہے، ان کو ’’زید النار‘‘ کا نام اس وجہ سے دیا گیا کہ اس زید نے بصرہ میں بنو عباس اور ان کے متبعین کے گھروں کو کثرت سے جلایا تھا، جب ان کے پاس ’’مسودہ‘‘میں سے کوئی شخص لایا جاتا تو اس کے نزدیک اس کی سزا یہ تھی کہ وہ اسے آگ میں جلا دیتا تھا، اور ان لوگوں نے بصرہ میں بہت سا مال لوٹا تھا، پھر علی بن ابی سعید نے اسے پکڑ کر قید کر دیا، اور کہا جاتا ہے کہ اس نے امن مانگا تو علی بن ابی سعید نے اسے امن دے دیا۔
حوالہ جات
[6] تاريخ الطبري تاريخ الرسل والملوك:۸/۵۳۵،ت:محمد أبو الفضل إبراهيم،دار المعارف ـ مصر،الطبعة الثانية1387هـ .