اس روایت کی تحقیق سے
روایت : ایک غریب صحابی r کا اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر معاونت کی درخواست کرنا، اور آپﷺ کا ان کو پسینہ مبارک عطا فرمانا، اس سے خوشبو کا پھیلنا، اور صحابی r کے خاندان کا خوشبو والے گھرانے سے مشہور ہوجانا۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی حَلْبَس بن محمد کلابی ابو غالب بصری کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[22]میں فرماتے ہیں:’’حَلْبَس بن محمد الكلبي شيخ يروي عن سفيان الثوري ما ليس من حديثه، لا يحل الاحتجاج به بحال‘‘. حَلْبَس بن محمد کلبی شیخ ہے، سفیان ثوری lکے انتساب سے وہ احادیث نقل کرتا ہے جو ان کی نہیں ہوتیں،چنانچہ اس سے کسی بھی طرح احتجاج درست نہیں ہے۔
حافظ ابن عدی l’’الكامل‘‘[23] میں فرماتے ہیں:’’منكر الحديث عن الثقات‘‘. یہ ثقات کے انتساب سے منکر الحدیث ہے۔
حافظ ازدی lنے سند میں موجود راوی حَلْبَس کو’’واه دامر‘‘ کہا ہے[24]۔
امام دار قطنیl ’’العلل الواردة‘‘[25] میں ایک دوسری حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهو متروک الحديث كوفي‘‘.یہ متروک الحدیث ہے، کوفی ہے۔
حافظ ذہبیl نے ’’میزان الاعتدال‘‘[26] میں حافظ ابن عدیl اور حافظ دار قطنیl کا کلام نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl نے ’’المقتنى‘‘[27] میں حَلْبَس کو’’ واه‘‘ کہا ہے۔
حافظ زین الدین عراقیl’’المغنی‘‘[28]میں ایک دوسری روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وفيه حَلْبَس بن محمد أحد المتروكين‘‘. اور اس کی سند میں حَلْبَس بن محمد ہے جو متروکین میں سے ہے۔
علامہ ابن عراقl’’تنزيه الشريعة‘‘[29] میں حَلْبَس بن محمد کلابی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال ابن عدي وأظنه حلبس بن غالب، اتهمه ابن الجوزي بالوضع‘‘. ابن عدیl کہتے ہیں: میرا خیال یہ ہے کہ حَلْبَس بن محمد کلابی حَلْبَس بن غالب ہے، اور ابن جوزیl نے اسے حدیث گھڑنے میں متہم قرار دیا ہے۔
علامہ سبط ابن عجمیl’’الكشف الحثيث‘‘[30] میں فرماتے ہیں: ’’قال الدارقطني: متروك، وقال ابن عدي: منكر الحديث، وساق له ابن عدي حديثا، وقد تعقبه الذهبي بأنه باطل، ثم ساق له ابن عدي حديثا آخر، قال الذهبي: وهذا منكر جدا، ولم يذكر في ترجمته ما يدل على أنه وضاع، لكن قال ابن الجوزي في الحديث الثاني الذي استنكره الذهبي في الموضوعات: وهذا مما عملته يد حَلْبَس انتهى‘‘.
حَلْبَس کلبی کو دارقطنیl نے متروک کہا ہے، اور ابن عدی lنے اسے منکر الحدیث کہا ہے، اور ابن عدیlحَلْبَس سے ایک روایت لائے ہیں، اور ذہبی lنے ان کا تعاقب کرتے ہوئے اس حدیث کو باطل قرار دیا ہے، پھر ابن عدیl ان سے دوسری حدیث لے کر آئے ہیں تو ذہبی lفرماتے ہیں: یہ شدید منکر ہے، البتہ اس کے ترجمہ میں کوئی ایسی بات ذکر نہیں کی جو اس کے وضاع ہونے پر دلالت کرے، تاہم ابن جوزیl دوسری حدیث کے تحت جسے ذہبیlنے منکر کہا ہے’’موضوعات‘‘ میں فرماتے ہیں: یہ حدیث حلبس کی گھڑی ہوئی احادیث میں سے ہے، انتہی۔
حوالہ جات
[22] المجروحين:۱/۲7۷،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[23] الكامل في الضعفاء:3/401،رقم:567،ت:عادل أحمد عبدالموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[24] کتاب الموضوعات:1/292،ت:عبد الرحمن محمدعثمان،المکتبة السلفيةـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸8هـ .
[25] العلل الواردة:5/169،رقم:801،ت:محفوظ الرحمن زين الله السلفي،دار طيبة ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴09هـ .
[26] ميزان الاعتدال:1/587،رقم:2233 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[27] المقتنى في سرد الكنى:2/4،رقم:4896،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة، الطبعة1408هـ .
[28] المغني عن حمل الأسفار:1/905، رقم:3304، ت:أبو محمد أشرف،مکتبة طبرية ـ الریاض،الطبعة الأولى۱۴۱۵هـ .
[29] تنزيه الشريعة:۱/۵5،رقم:54،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري وعبد الوهاب عبد اللطيف،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[30] الكشف الحثيث:ص:103، رقم:256،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .