اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’ كان يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أصابه مرض أوهم: اشتدي أزمة! تنفرجي‘‘. جب آپﷺ کو کوئی مصیبت یا غم پہنچتا تو آپﷺ فرماتے: اے مصیبت! تو سخت ہوجا، ٹل جائے گی۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ ہفتم)سند میں موجود راوی حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ بن ابی ضمیرہ سعد حمیری مدنی کے بارے میں ائمہ رجال کے اقوال
فقیہ عبد اللہ بن مطرف l فرماتے ہیں: ’’سمعت مالكا يقول: إن ها هنا قوما يحدثون في هذا المسجد يعني مسجد النبي صلى الله عليه وسلم يكذبون، منهم: حسين بن ضميرة‘‘[19]. میں نے مالک l کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہاں مسجد نبوی ﷺ میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مسجد میں حدیث بیان کرتے ہوئے جھوٹ بولتے ہیں، ان میں ایک حسین بن ضمیرہ بھی ہے۔
امام عبد العزیز اویسی l فرماتے ہیں: ’’ لما خرج إسماعيل بن أبي أويس إلى حسين بن ضميرة، فبلغ مالكا فهجره أربعين يوما‘‘[20] . جب اسماعیل بن ابی اویس نکل کر حسین بن ضمیرہ کے پاس گئے، یہ خبر مالک l کو پہنچی تو انہوں نے ان سے چالیس دن تک ترک تعلق رکھا۔
حافظ ابن ابی اویس l فرماتے ہیں: ’’ كان يتهم بالزندقة‘‘[21]. یہ زندیق ہونے میں متہم ہے۔
حافظ یحیی بن معینl نے حسین بن عبد اللہ حمیری کو ’’ليس بشيء‘‘ کہا ہے[22]۔
حافظ یحیی بن معینl نے ایک دوسرے مقام پر حسین بن عبد اللہ حمیری کو ’’ ليس بثقة ولا مأمون‘‘ کہا ہے[23]۔
حافظ ابن معینlایک اور مقام پرفرماتے ہیں: ’’ كذاب، ليس حديثه بشيء‘‘[24]. یہ کذاب ہے، اس کی حدیث لیس بشیء ہے۔
امام احمد بن حنبلl نے اسے ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے[25]۔
نیز امام احمد بن حنبلl ’’ العلل‘‘[26] میں فرماتے ہیں: ’’حسين بن عبد الله بن ضميرة وكثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف لا يسويان شيئا جميعا متقاربان، ليس بشيء‘‘[27]. حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ اور کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف دونوں لا یسوی شیء ہیں، دونوں متقارب، لیس بشیء ہیں۔
حافظ عمرو بن علی فلاس l نے حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ کو ’’متروک الحدیث‘‘ کہا ہے[28]۔
امام بخاریl نے ’’التاريخ الكبير‘‘[29] میں اسے ’’منكر الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابراہیم بن یعقوب جوزجانی سعدیl فرماتے ہیں:’’ما ينبغي أن يحدث عنه‘‘[30].اس سے حدیث نقل کرنا مناسب نہیں ہے۔
حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’ترك الناس حديث الحسين بن ضميرة، وهو عندي متروك الحديث، كذاب‘‘[31]. لوگوں نے حسین بن ضمیرہ کی حدیث ترک کردی تھی، اور وہ میرے نزدیک متروک الحدیث، کذاب ہے۔
حافظ ابو زرعہ l فرماتے ہیں: ’’ ليس بشيء، ضعيف الحديث، اضرب على حديثه‘‘[32]. یہ لیس بشیء، ضعیف الحدیث ہے، اس کی حدیث کو ترک کردو۔
حافظ ابن جارود l نے حسین بن عبد اللہ کو ’’ كذاب، ليس بشيء‘‘ کہا ہے[33]۔
امام نسائیl نے حسین حمیری کو’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے[34]۔
حافظ عقیلیl ’’الضعفاء الكبير‘‘[35]میں لکھتے ہیں:’’ويكثر ما يخالف فيه هذا الشيخ، الغالب على حديثه الوهم والنكارة‘‘.اس شیخ کی کثرت سے مخالفت کی جاتی ہے، اس کی حدیثوں میں وہم اور نکارت غالب ہوتی ہے۔
حافظ ابن حبانl’’المجروحين‘‘[36] میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن أبيه، عن جده بنسخة موضوعة، روى عنه إسماعيل بن أبي أويس، وكان ينزل بينبع في مال له خارج المدينة، فلما خرج إليه إسماعيل بن أبي أويس وسمع منه، ورجع إلى المدينة هجره مالك بن أنس أربعين يوما، وكان حسين رجلا صالحا، أقلب عليه نسخة أبيه، عن جده، فحدث بها ولم يعلم‘‘.
حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ نے اپنے والد اور دادا کے انتساب سے من گھڑت نسخہ روایت کیا ہے، اس سے اسماعیل بن ابی اویس نے روایت کی ہے، یہ مدینہ سے باہر ’’ینبع‘‘ میں اپنی جائیداد میں رہتا تھا، چنانچہ جب اسماعیل بن ابی اویس نے ان کے پاس جا کر ان سے سماعت کی، اور مدینہ لوٹ آئے تو مالک بن انس l نے چالیس دن ان کو چھوڑے رکھا، اور حسین ایک نیک شخص تھا، اس پر نسخہ ابیہ، عن جدہ قلب کیا گیا تھا، پھر وہ انجانے میں اس سے حدیث بیان کرتا تھا۔
حافظ ابن عدیl’’الكامل‘‘[37] میں فرماتے ہیں:’’وللحسين بن عبد الله بن ضميرة من الحديث غير ما ذكرت، وهو ضعيف منكر الحديث، وضعفه بين على حديثه‘‘.حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ کی میری ذکر کردہ احادیث کے علاوہ بھی احادیث ہیں، اور وہ ضعیف، منکر الحدیث ہے، اور اس کا ضعف اس کی حدیث سے ظاہر ہوتا ہے۔
امام دارقطنیl فرماتے ہیں: ’’متروك، لايحدث إلا عن أبيه عن جده‘‘[38]. حسین بن عبد اللہ متروک ہے، یہ صرف عن ابیہ، عن جدہ کی سند سے روایت کرتا ہے۔
حافظ ابن حزم اندلسیl ’’المحلى‘‘[39] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’حسين بن عبد الله في غاية السقوط والاطراح باتفاق أهل النقل‘‘. حسین بن عبد اللہ باتفاق اہل نقل، انتہائی ساقط اور مطروح ہے۔
حافظ ابن عبد البرl نے ’’التمهيد‘‘[40] میں ایک روایت کے تحت حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ کو ’’ متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن عبد الہادیl ’’تنقيح التحقيق‘‘[41] میں فرماتے ہیں: ’’وقد أجمعوا على تكذيبه ‘‘. اس کے جھوٹا ہونے پر اجماع ہے۔
حافظ ذہبیl ’’ المغني‘‘[42] میں فرماتے ہیں: ’’تركه غير واحد‘‘. اسے ایک سے زائد نے ترک کر دیا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l نے ’’تنقيح التحقيق‘‘[43] میں حسین بن عبد اللہ بن ضمیرہ کو ’’هالك‘‘ کہا ہے۔
حافظ ہیثمیl نے ’’مجمع الزوائد‘‘[44] میں ایک روایت کے تحت اسے ’’متروك، كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[45] میں حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ کو وضاعین و متہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’قال أبو حاتم وابن الجارود: كذاب‘‘. ابو حاتم l اور ابن جارود l فرماتے ہیں کہ کذاب ہے۔
حوالہ جات
[19] الضعفاء الكبير:۱/۲۴۶،رقم:۲۹۴،ت:عبد المعطی أمین قلعجی،دار الکتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۰۸هـ .
[20] الجرح والتعديل:3/58،رقم:259،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .
[21] لسان الميزان:3/173،رقم:2547،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[22] تاريخ عثمان بن سعيد الدارمي:ص:91،رقم:238،ت:أحمد محمد نور سيف ،دار المامون للتراث ـ بيروت .
[23] انظر الكامل:3/226،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[24] انظر الكامل:3/226،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[25] الجرح والتعديل:3/58،رقم:259،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .
[26] العلل ومعرفة الرجال:3/213،رقم:4922،ت:وصي الله بن محمد عباس،دار الخاني ـ الرياض،الطبعة الثانية 1422هـ .
[27] انظر الكامل:3/226،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[28] الكامل:3/2۲۶،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض ،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[29] التاريخ الكبير:۲/۳۷۷،رقم:۲۸۷۳،ت:مصطفى عبد القادر أحمد عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۲۹هـ .
[30] أحوال الرجال:ص:216،رقم:214،ت:عبد العليم عبد العظيم البستوي،حديث اكادمي ـ فيصل آباد .
[31] الجرح والتعديل:3/58،رقم:259، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[32] الجرح والتعديل:3/58،رقم:259، دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1371هـ .
[33] لسان الميزان:3/173،رقم:2547،ت:عبد الفتاح أبو غده،دار البشائر الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳هـ .
[34] انظر الكامل:3/226،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[35] الضعفاء الكبير:1/247،رقم:294،ت:عبد المعطي أمين قلعجي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى .
[36] المجروحين:1/244،ت: محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .
[37] الكامل:3/231،رقم:488،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض ،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[38] سؤالات البرقاني للدارقطني:ص:22،رقم:87 ،ت:عبد الرحيم محمد أحمد القشقري،كتب خانه جميلي ـ لاهور، الطبعة الأولى1404هـ .
[39] المحلى بالآثار:7/495،ت:عبد الغفار سليمان البنداري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1425هـ .
[40] التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد:۱۶/۱۶،ت:بشار عواد معروف،سليم محمد عامر،مؤسسة الفرقان للتراث الإسلامي،الطبعة الأولى1439هـ .
[41] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:۲/۱۹۱،ت:سامي بن محمد بن جاد الله وعبد العزيز بن ناصر الخباني، أضواء السلف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴28هـ .
[42] المغني في الضعفاء:۱/264،رقم:1535،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[43] تنقيح التحقيق في أحاديث التعليق:1/150،ت:مصطفى أبو الغيط عبد الحي،دار الوطن ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴21هـ .
[44] مجمع الزوائد:۴/۱۰۷،دار الكتاب العربي ـ بيروت .
[45] تنزيه الشريعة:۱/۵۲،رقم:۱۴،ت:عبد الله محمد الصديق الغماري،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .