التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

حسن بن علی بن عیسی، ابو عبدالغنی ازدی معانی، قَسْطَلِی بلقاوی

المتوفی 251- ۲۶۰ھایک روایت میں تذکرہ

حسن بن علی بن عیسی، ابو عبدالغنی ازدی معانی، قَسْطَلِی بلقاوی کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

روایت میں موجود راوی حسن بن علی بن عیسی، ابو عبدالغنی ازدی معانی، قَسْطَلِی بلقاوی  (المتوفی 251- ۲۶۰ھ)  کے بارے میں ائمہ رجال کاکلام

حافظ ابن حبانl ’’المجروحين‘‘[16] میں ابو عبدالغنی حسن بن علی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’يروي عن مالك وغيره من الثقات، ويضع عليهم، لا تحل كتابة حديثه ولا الرواية عنه بحال، وهذا شيخ لا يكاد يعرفه إلا أصحاب الحديث لخفائه، ولكني ذكرته لئلا يغتر بروايته من كتب حديثه ولم يسبر أخباره‘‘. مالک اور ان کے علاوہ ثقہ روات سے روایت کرتا ہے،  اور ان پر حدیث گھڑتا ہے، کسی بھی حالت میں اس کی حدیث کو لکھنا حلال نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے روایت کرنا حلال ہے، اور قریب تھا کہ اس شیخ کے مخفی ہونے کی وجہ سے اصحابِ حدیث کے علاوہ کسی کو اس کی معرفت ہی نہ ہوتی، لیکن میں نے اس کو ذکر کیا ہے تاکہ اس کی حدیث سے کسی ایسے شخص کو دھوکہ نہ ہو جس نے اس کی حدیث لکھی ہو، اور اس کی اخبار کو جانچا نہ ہو۔

حافظ سمعانی l نے ’’الأنساب‘‘[17] میں اور علامہ سبط ابن عجمی l نے ’’الكشف الحثيث‘‘[18] میں حافظ ابن حبان l کے کلام پر اعتماد کیا ہے۔

حافظ ابن عدی l ’’الكامل‘‘[19] میں ابو عبدالغنی حسن بن علی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’روى عن عبد الرزاق أحاديث لا يتابعه أحد عليه في فضائل علي وغيره‘‘. اس نے فضائل علی r وغیرہ میں عبد الرزاق سے ایسی احادیث روایت کی ہیں، جن میں کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے۔

نیز حافظ ابن عدی l ، حسن بن علی ازدی کی دو احادیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وأبو عبد الغني هذا لم أر له من الحديث، ولم يحدثنا عنه أحد بأكثر من خمسة أحاديث، وما رواه يحتمل [ كذا في الأصل]، وكم مجهود من يريد أن يكذب في خمسة أحاديث‘‘. اور اس عبدالغنی کی میں نے حدیث نہیں دیکھی ہے، اور اس کے حوالہ سے ہمیں کسی نے پانچ سے زیادہ احادیث بیان نہیں کیں، اور جو اس نے روایت کیا ہے وہ قابل تحمل ہے، اور وہ شخص کتنی مشقت جھیل رہا ہے جو پانچ احادیث میں جھوٹ بولنے کا ارادہ کر رہا ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[20] میں حسن بن علی ازدی کے بارے میں فرماتے ہیں:  ’’يروي عن مالك الإمام أحاديث موضوعة‘‘. امام مالک l کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کرتاہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[21] میں حسن بن علی ازدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’حدث عن مالك بأحاديث موضوعة‘‘.  اس نے مالک l کے انتساب سے من گھڑت احادیث بیان کی ہیں۔

حافظ ابن عساکرl ’’تاريخ دمشق‘‘[22] میں حسن بن علی ازدی کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’وكان ضعيفا‘‘. اور یہ ضعیف تھا۔

حافظ ذہبی l نے ’’ديوان الضعفاء‘‘[23] میں ابو عبدالغنی حسن بن علی کو ’’کذاب‘‘ کہاہے۔

حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[24] میں مینا بن ابی مینا کے ترجمہ میں ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں: ’’ولعله من وضع أبي عبد الغني‘‘. ممکن ہے کہ یہ ابو عبد الغنی کی گھڑی ہوئی ہو۔

علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[25] میں ابو عبد الغنی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے ’’کذاب‘‘ کہاہے۔

حوالہ جات

[16] المجروحين:۱/۲۴۰،رقم:219ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة1412هـ .

[17] الأنساب:10/419،رقم:3242،مجلس دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن ـ الهند،الطبعة الاولى ۱397هـ .

[18] الكشف الحثيث عمن رمي بوضع الحديث:ص:92،رقم:218،ت:صبحي السامرائي،مكتبة النهضة العربية ـ بيروت،الطبعة الأولى1407هـ .

[19] الكامل في الضعفاء:۳/۱۹۱،رقم:472،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .

[20] المدخل إلى الصحيح:ص:128،رقم:36،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[21] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/63،رقم:۴۸،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[22] تاريخ مدينة دمشق:۱۳/۳۱۲،رقم:1392،ت:محب الدين أبي سعيد عمر بن غرامة العمروي،دار الفكر ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴18هـ .

[23] ديوان الضعفاء:ص:۸۳،رقم:۹۲۶،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مكتبة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة، الطبعة1387هـ .

[24]  ميزان الاعتدال:۴/237،رقم:8981 ،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[25] تنزيه الشريعة:۱/49،رقم:40،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ