اس روایت کی تحقیق سے2 میں سے 1
روایت: ’’اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں: میری عزت وجلال کی قسم! اے محمد! میں کسی ایسے شخص کو جہنم کا عذاب نہیں دوں گا جس نے اپنا نام آپ کے نام سے رکھا ہو‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ نہم)سند میں موجود راوی احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نُبَیْط بن شَرِیط اشجعی(المتوفی 287ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[6] میں فرماتے ہیں:’’صاحب النسخة المشهورة الموضوعة‘‘. اس نے ایک مشہور نسخہ گھڑا ہے۔
نیز حافظ ذہبی l ’’میزان الاعتدال‘‘[7] میں سند کے راوی احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نُبَیط بن شَرِیط کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: ’’عن أبيه، عن جده بنسخة فيها بلايا...‘‘. ’’احمد عن ابیہ، عن جدہ کے طریق سے ایک نسخہ نقل کرتا ہے، جس میں بلایا ہیں۔۔۔ ‘‘۔
اس کے بعد حافظ ذہبی l نے زیر بحث روایت اور دیگر روایات ذکر کی ہیں، پھر فرماتے ہیں:
’’سمعناها من طريق أبي نعيم عن اللُكِّي عنه: لا يحل الاحتجاج به، فإنه كذاب‘‘. ہم نے ان روایات کی سماعت ابو نعیم، عن اللُکِی، عن احمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس کی روایت سے احتجاج کرنا حلال نہیں ہے، اس لئے کہ احمد بن اسحاق کذاب ہے۔
حافظ ذہبیlکے کلام پر حافظ ابن حجر عسقلانیlنے’’لسان‘‘[8] میں،حافظ ہیثمیlنے ’’مجمع الزوائد‘‘[9] میں، علامہ سیوطیl نے ’’الزيادات‘‘[10] میں اور علامہ ابن عراقl نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[11] میں اکتفاء کیا ہے۔
حافظ ذہبیl ’’المغني‘‘[12] میں فرماتے ہیں: ’’ساقط، ذو أوابد‘‘. ساقط ہے، عجائبات والا ہے۔
نیز حافظ ذہبیl ’’ديوان الضعفاء‘‘[13] میں لکھتے ہیں: ’’متروك، له نسخة‘‘. یہ متروک ہے، اس کا ایک نسخہ ہے۔
حافظ ابن عبدالہادی دمشقیl ’’طبقات علماء الحدیث‘‘[14] میں فرماتے ہیں: ’’وهو صاحب النسخة الموضوعة، وكان يدعي أنه ولد سنة سبعين ومئة،لا يعتمد عليه‘‘. اس کا ایک گھڑا ہوا نسخہ ہے،اور یہ اس کا دعوی کرتا تھاکہ اس کی ولادت سن ایک سو ستر ہجری کی ہے،اس پر اعتماد نہیں کیاجاسکتا ۔
علامہ شوکانی l ’’الفوائد المجموعة‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’ومنها: نسخة أحمد بن إسحاق بن إبراهيم بن نبيط بن شريط، عن أبيه، عن جده، كلها موضوعة‘‘.اور ان من گھڑت نسخوں میں احمد بن اسحاق بن ابراہیم بن نبیط بن شریط کا ایک نسخہ ہے جسے وہ عن ابیہ، عن جدہ کے طریق سے نقل کرتا ہے، یہ تمام تر من گھڑت ہے۔
حوالہ جات
[6] تاريخ الإسلام:۶/۶68،رقم:۸ ،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۴هـ .
[7] ميزان الاعتدال:۱/۸۲ ،رقم:۲۹۶،ت:علی محمد البجاوی،دار المعرفة ـ بیروت .
[8] لسان الميزان:۱/۴۰۴،رقم:۳۹۱،ت:عبد الفتاح أبو غدة،مكتب المطبوعات الإسلامية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۲۳ هـ .
[9] مجمع الزوائد:۱/۱۴۶،دار الكتاب العربي ـ بيروت،الطبعة الثالثة۱۴۱۲هـ .
[10] الزيادات على الموضوعات:2/783،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى ۱۴31هـ .
[11] تنزيه الشريعة:۱/۲5،رقم:83 ،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف،عبد الله محمد صديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۰۱هـ .
[12] المغني في الضعفاء:1/59،رقم:243،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1418هـ .
[13] ديوان الضعفاء:ص:2،رقم:9،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .
[14] طبقات علماء الحدیث:۲/۳۴۸،ت:أكرم البوشي،إبراهيم الزيبق،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴۱۷هـ .
[15] الفوائد المجموعة:۴۲۵،ت:عبد الرحمن بن يحيى المعلمي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة ۱۴۱۶هـ .