اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے: حالت اسلام میں کسی شخص کے بچے کی ولادت ہو، پھر وہ لا الہ الا اللہ کہنے تک پہنچ جائے تو اللہ تعالی اس کے والدین کو جنت میں داخل فرمائیں گے‘‘۔
غیر معتبر روایات کافنی جائزہ (حصہ ہشتم)سند میں موجود راوی ابو معاذ عبد اللہ بن ضرار بن عمرو رحبی مَلَطِی کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ یحیی بن معین l فرماتے ہیں: ’’ليس بشيء، ولا يكتب حديثه‘‘[9]. یہ لیس بشیء ہے، اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
حافظ ذہبی l نے ’’ميزان‘‘[10]، ’’ديوان‘‘[11] اور ’’المغني‘‘[12] میں حافظ یحیی بن معین l کے قول پر اعتماد کیا ہے۔
حافظ ابن حبانl ’’الثقات‘‘[13] میں فرماتے ہیں: ’’عبد الله بن ضرار بن عمرو المَلَطِي يروي عن أبيه،,وأبوه ضعيف، روى عنه النضر بن يزيد، يروي أبوه عن الزهري‘‘. عبد اللہ بن ضرار بن عمرو مَلَطِی اپنے والد سے روایت کرتا ہے، اور اس کا والد ضعیف ہے، اور نضر بن یزید نے اس سے روایت کی ہے، اس کا والد زہری سے روایت کرتا ہے۔
نیز حافظ ابن حبان l ’’المجروحین‘‘[14] میں حماد بن عمرو نصیبی کے ترجمہ میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وهذا حديث باطل، لا أصل له، وفي إسناده أربعة ضعفاء: عبد الله بن ضرار وأبوه وحماد بن عمرو ويزيد الرقاشي‘‘. یہ باطل حدیث ہے، بے اصل ہے، اور اس کی سند میں چار ضعفاء ہیں: عبد اللہ بن ضرار، اس کا والد، حماد بن عمرو، اور یزید رقاشی۔
حافظابن عدیl ’’الكامل‘‘[15]میں عبد اللہ بن ضرار کے ترجمہ میں زیر بحث روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ’’ولعبد الله بن ضرار غير ما ذكرت من الروايات قليل، ومقدار ما يرويه لا يتابع عليه‘‘. میری ذکر کردہ روایات کے علاوہ عبد اللہ بن ضرار کی دیگر روایات کم ہیں، اور اس کی روایت کردہ اس مقدار میں اس کی متابعت نہیں کی جاتی۔
حافظ دار قطنیl ’’الضعفاء‘‘[16] میں فرماتے ہیں: ’’ضرار بن عمرو ببغداد والبصرة، عن يزيد الرقاشي، يروي عنه ابناه عبيد الله وعبد الله ضعيفان‘‘. ضرار بن عمرو بغداد اور بصرہ جو یزید رقاشی سے نقل کرتا ہے، اور اس سے اس کے دونوں بیٹے عبد اللہ اور عبید اللہ نقل کرتے ہیں، یہ دونوں ضعیف ہیں۔
حافظ ابن قیسرانی l نے ’’ذخيرة الحفاظ‘‘[17] میں زیر بحث روایت کے تحت عبد اللہ بن ضرار کو ’’ لا شيء في الحديث‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[9] انظر الكامل في ضعفاء الرجال:5/396،رقم:1068،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض، دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[10] ميزان الاعتدال:2/448،رقم:4391،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[11] ديوان الضعفاء:ص:219،رقم:2211،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثية ـ مكة المكرمة .
[12] المغني في الضعفاء:1/545،رقم:3224،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .
[13] الثقات:8/346،دائرة المعارف العثمانية ـ حيدر آباد الدكن،الطبعة الأولى1393هـ .
[14] المجروحين:1/252،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[15] الكامل في ضعفاء الرجال:5/396،رقم:1068،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت .
[16] الضعفاء والمتروکون:ص:253،رقم:302،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .
[17] ذخيرة الحفاظ:ص:2434،رقم:5640،ت:عبد الرحمن بن عبد الجبار الفريوائي،دار السلف ـ الرياض، الطبعة الأولى۱۴16هـ .