اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’جالسوا الكبراء وخالطوا الحكماء وسائلوا العلماء‘‘.بڑوں کے ساتھ بیٹھا کرو، اور حکماء کے ساتھ میل جول رکھو،اور علماء سے پوچھ لیا کرو۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (حصہ چہارم)سند میں موجود راوی ابو مالک عبدالملک بن حسین نخعی کوفی یعرف بابن دُر
کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
امام بخاری l ’’التاريخ الكبير‘‘[15] میں فرماتے ہیں: ’’ ليس بالقوي عندهم‘‘.
حافظ ابن حبان l ’’المجروحين‘‘[16] میں لکھتے ہیں: ’’ كان ممن يروي المقلوبات عن الأثبات، لا يجوز الاحتجاج به فيما وافق الثقات، ولا الاعتبار فيما لم يخالف الأثبات‘‘.
یہ ان لوگوں میں سے ہے، جو ثبت سے مقلوب احادیث روایت کرتے ہیں، اس کی ان روایات سے بھی احتجاج درست نہیں جس میں ثقہ لوگ اس کی موافقت کریں، اور ان روایات کا بھی اعتبار نہیں جس میں ثقہ لوگ اس کی مخالفت نہ کریں۔
حافظ ابن عدی l کا کلام روایت پر کلام کے تحت گزر چکا ہے۔
حافظ دار قطنی l نے ’’الضعفاء والمتروكون‘‘[17] میں اسے ذکر کیا ہے۔
امام نسائی lنے ’’الضعفاء والمتروكين‘‘[18] میں عبدالملک بن حسین کو ’’متروك الحديث‘‘ کہا ہے۔
ایک دوسرے مقام پر امام نسائی l فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، ولايكتب حديثه‘‘[19].یہ ثقہ نہیں ہے، اور اس کی حدیث نہیں لکھی جائے گی۔
امام ابوداؤد l فرماتے ہیں: ’’ضعيف‘‘[20].
حافظ عمرو بن علیl فرماتے ہیں: ’’ضعيف الحديث، منكرالحديث‘‘[21].
حافظ یحیی بن معینl فرماتے ہیں : ’’ ليس بشيء‘‘[22].
حافظ ابو زرعہ l اور حافظ ابو حاتم l نے عبدالملک کو ’’ضعيف الحديث‘‘ کہا ہے۔[23]
حوالہ جات
[15] التاريخ الكبير:5/411،رقم:1336،دارالكتب العلمية ـ بيروت .
[16] المجروحين:2/135،ت:محمود إبراهيم زايد،دارالمعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .
[17] الضعفاءوالمتروكين للدارقطني:ص:۲۸۹،رقم:۳۶۳،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف - الریاض، الطبعة الأولى۱۴۰۴ هـ .
[18] الضعفاءوالمتروكين:ص:209،رقم:383،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة ۱۴06 هـ .
[19] تهذيب الكمال34/249،رقم:7599،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1۴۱3 هـ .
[20] تهذيب الكمال34/249،رقم:7599،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1۴۱3 هـ .
[21] تهذيب الكمال34/248،رقم:7599،ت:بشار عواد معروف،مؤسسة الرسالةـ بيروت،الطبعة الأولى 1۴۱3 هـ .
[22] الجرح والتعديل:5/347،رقم:1641،دارالكتب العلمية،بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .
[23] الجرح والتعديل:5/347،رقم:1641،دارالكتب العلمية،بيروت،الطبعة الأولى۱۳۷۲ هـ .