اس روایت کی تحقیق سے
روایت: ’’رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’من حج حجة الإسلام، وغزا بعدها غزوة كتبت غزاته بأربع مائة حجة، قال: فانكسرت قلوب قوم لا يقدرون على الجهاد، ولا الحج، قال: فأوحى الله عز وجل إلي: ما صلى عليك أحد إلا كتبت صلاته بأربع مائة غزاة، كل غزاة بأربع مائة حجة‘‘. جو شخص حج اسلام کرلے اور اس کے بعد جہاد کرے، تو اس کا جہاد چار سو حج کے ساتھ لکھا جائے گا، علی r فرماتے ہیں: ان لوگوں کے دل ٹوٹ گئے جو جہاد کی طاقت نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی حج کی، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ عزوجل نے مجھ پر وحی نازل فرمائی: جو آپ پر درود پڑھے گا، اس کا درود چار سو جہاد کے ساتھ لکھا جائے گا، ہر جہاد چار سو حج کے ساتھ‘‘۔
غیر معتبر روایات کا فنی جائزہ (تیرہواں حصہ)سند کے راوی ابو عمرو عثمان بن خطاب بن عبد اللہ بن عوام اشج بَلَوی مغربی المعروف بابی الدنیا (المتوفی ۳۲۷ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام
حافظ خطیب بغدادی l ’’تاريخ بغداد‘‘[7] میں فرماتے ہیں: ’’والعلماء من أهل النقل لا يثبتون قوله، ولا يحتجون بحديثه‘‘. علماء اہل نقل اس کے قول کو ثابت قرار نہیں دیتے، اور اس کی حدیث سے احتجاج نہیں کرتے۔
حافظ ابن العدیم l ’’بغية الطلب‘‘[8] میں ابو الدنیا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ذكر أنه لقي علي بن أبي طالب رضي الله عنه بصفين، وله نسخة يرويها عنه، لا يعتمد على روايته‘‘. ذکر کیا جاتا ہے کہ یہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے صفین میں ملا ہے، اور اس کا ایک نسخہ بھی ہے جسے یہ علی r سے روایت کرتا ہے، اس کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔
حافظ ابن عبدالہادی دمشقیl نے ’’طبقات علماء الحدیث‘‘[9] میں ابو الدنیا کو ’’ كذاب‘‘ کہا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’تاريخ الإسلام‘‘[10] میں ابو الدنیا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ليس بثقة، والله! ولا صادق‘‘. اللہ کی قسم! ثقہ نہیں ہے، اور نہ ہی سچا ہے۔
حافظ ذہبی l ’’ميزان الاعتدال‘‘[11] میں تحریر فرماتے ہیں: ’’طير طرأ على أهل بغداد، وحدث بقلة حياء بعد الثلثمائة عن علي بن أبي طالب، فافتضح بذلك، وكذبه النقاد ‘‘. پرندہ ہے جو اڑکر اہل بغداد کے پاس آیا ہے، اور حیاء کی کمی کی وجہ سے تین سو ہجری کے بعد علی بن ابی طالب r کے حوالہ سے حدیث بیان کرتا تھا، سو اس وجہ سے رسوا ہوگیا، اور ناقدین نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔
حافظ ذہبی l نے ابو الدنیا کو ’’المقتنى‘‘[12] اور ’’تذكرة الحفاظ‘‘[13] میں ’’ كذاب‘‘، ’’ميزان‘‘[14] میں ’’ كذاب، طرقي‘‘، ’’المغني‘‘[15] میں ’’ كذاب، دجال‘‘، اور ’’ديوان‘‘[16] میں ’’ أقل من كذاب‘‘ کہا ہے۔
علامہ صلاح الدین صفدی l نے ’’الوافي‘‘[17] میں اشج ابو الدنیا کو ’’ليس بثقة، ولا صدوق‘‘ کہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی l ’’نزهة الألباب‘‘[18] میں ابو الدنیا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذبوه‘‘. محدثین نے اسے کذاب کہا ہے۔
علامہ عز الدین ابن الوزیر ’’العواصم‘‘[19] میں اشج ابو الدنیا کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’المشهور بالكذب على أمير المؤمنين، فإنه ادعى بعد ثلاث مئة سنة أنه من أصحابه‘‘. امیر المؤمنین پر جھوٹ بولنے میں مشہور ہے، اس لئے کہ اس نے تین سو سال کے بعد اس بات کا دعوی کیا کہ وہ امیر المؤمنین کے اصحاب میں سے ہے۔
علامہ ابن عراق l نے ’’تنزيه الشريعة‘‘[20] میں ابو الدنیا مغربی کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے ’’ أقل من كذاب‘‘ کہا ہے۔
حوالہ جات
[7] تاريخ بغداد:13/184،رقم:6034،ت:بشارعواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۲هـ .
[8] بغية الطلب في تاريخ حلب:ص:۴۴۴۴،ت:سهيل زكار،دارالفكر ـ بيروت .
[9] طبقات علماء الحدیث:۳/۲۱،ت:أكرم البوشي،إبراهيم الزيبق،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية ۱۴۱۷هـ .
[10] تاريخ الإسلام:7/537،رقم:341،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۲۴هـ .
[11] ميزان الاعتدال:3/۳۳،رقم:۵۵۰۰،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[12] المقتنى في سرد الكنى:1/227،رقم:2099،ت:محمد صالح عبد العزيز المراد،المجلس العلمي ـ المدينة المنورة،الطبعة1408هـ .
[13] تذكرة الحفاظ:۳/۳۵ ،رقم:۸۱۲،ت:زكريا عميرات،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۹هـ .
[14] ميزان الاعتدال:۴/۵۲۲،رقم:۱۰۱۷۳،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .
[15] المغني في الضعفاء:2/۵۸۳،رقم:۷۴۵۲،ت:أبو الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴۱۸هـ .
[16] ديوان الضعفاء والمتروكين وخلق من المجهولين وثقات فيهم لين:ص:۳۹،رقم:۴۶۹،ت:حماد بن محمد الأنصاری،مطبعة النهضة الحديثة ـ مكة المكرمة .
[17] الوافي بالوفيات:19/316،رقم:7616،ت:أحمد الأرناؤوط وتركي مصطفى،دار إحياء التراث العربي ـ بيروت، الطبعة الأولى1420هـ .
[18] نزهة الألباب في الألقاب:1/75،رقم:117،ت:عبد العزيز محمد بن صالح السديري،مكتبة الرشد ـ الرياض، الطبعة الأولى1409هـ .
[19] العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم:2/337،ت:شعيب الأرنؤوط،مؤسسة الرسالة ـ بيروت، الطبعة الثانية1412هـ .
[20] تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:1/۴۰،رقم:۳۰۸،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الثانية۱۴01هـ .