التحقحق المنیف - "التحقيق المنيف في دراسة الشرط المتفق عليه للحديث الضعيف نظرة على كتبه فضيلة الشيخ محمد عوامة حفظه الله حول حكم العمل بالحديث الضعيف" منظر عام پر آچکی ہے، ورق گردانی/ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اسی ویب سائٹ پر "کتابیں ڈاؤنلوڈ کریں" پر کلک کریں۔ - برائے مہربانی کسی بھی قسم کی معلومات یا استفسار کے لیے مندرجہ ذیل نمبر پر رابطہ کریں: 3210056-0342

راوی

ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن غالب بن خالد بن مرداس باہلی بصری المعروف غلام خلیل

المتوفی ۲۷۵ھایک روایت میں تذکرہ

ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن غالب بن خالد بن مرداس باہلی بصری المعروف غلام خلیل کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال، جیسے وہ ذیل کی روایات کی تحقیق میں نقل کیے گئے ہیں۔

سند میں موجود راوی ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن غالب بن خالد بن مرداس باہلی بصری المعروف غلام خلیل (المتوفی ۲۷۵ھ) کے بارے میں ائمہ رجال کا کلام

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[10] میں فرماتے ہیں: ’’سمعت عبدان الأهوازي يقول: قلت لعبد الرحمن بن خِرَاش: هذه الأحاديث التي يتحدث بها غلام الخليل لسليمان بن بلال من أين له؟ قال: سرقها من عبد الله بن شبيب، وسرقها عبد الله بن شَبِيْب من النضر بن سلمة، وسرقها النضر من شاذان، ووضعها شاذان‘‘. میں نے عبدان اہوازی کو فرماتے ہوئے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن خِرَاش سے پوچھا کہ سلیمان بن بلال کی یہ احادیث جن کو غلام خلیل بیان کرتا ہے یہ اسے کہاں سے ملی ہیں؟ عبد الرحمن بن خِرَاش نے کہا: اس نے عبد اللہ بن شَبِیْب سے سرقہ کی ہیں، اور عبد اللہ بن شَبِیْب نے انہیں نضر بن سلمہ سے سرقہ کیا ہے، اور نضر بن سلمہ نے انہیں شاذان سے سرقہ کیا ہے، اور شاذان نے انہیں گھڑا ہے۔

امام ابو داؤد l  فرماتے ہیں: ’’أخشى أن يكون دجال بغداد‘‘[11]. مجھے ڈر ہے کہ یہ بغداد کا دجال ہو۔

حافظ ابو حاتمl فرماتے ہیں: ’’روى أحاديث مناكير عن شيوخ مجهولين، ولم يكن محله عندي ممن يفتعل الحديث، وكان رجلا صالحا‘‘[12]. اس نے مجہول شیوخ سے منکر احادیث روایت کی ہیں، میرے نزدیک  اس کا مقام ومرتبہ حدیث گھڑنے والوں جیسا نہیں ہے، اور یہ نیک شخص تھا۔

علامہ ابو بکر بن اسحاق صبغی l فرماتے ہیں: ’’أحمد بن محمد بن غالب ممن لا أشك في كذبه ‘‘[13]. احمد بن محمد بن غالب ان لوگوں میں سے ہے جن کے جھوٹا ہونے میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔

علامہ ابو بکر نقاش l فرماتے ہیں:’’وهو واه‘‘[14]. اور یہ واہی ہے۔

حافظ ابن حبانl ’’المجروحین‘‘[15] میں فر ماتے ہیں:’’ لم يكن الحديث شأنه، كان يجيب في كل ما يسئل، ويقرأ كل ما يعطى، سواء كان ذلك من حديثه أو من حديث غيره‘‘. صناعت حدیث اس کا کام نہیں تھا، جس چیز کے بارے میں بھی اس سے پوچھا جاتا تھا اس کا جواب دیتا تھا، اور جو کچھ بھی اس کو دیا جاتا یہ اس کو پڑھتا تھا، چاہے اس کا تعلق اس کی اپنی حدیث سے ہوتا یا کسی اور کی حدیث سے ہوتا۔

حافظ ابن عدیl ’’الكامل‘‘[16] میں غلام خلیل کی ایک حدیث تخریج کرکے فرماتے ہیں: ’’وهذا الحديث باطل بهذا الإسناد وبغير هذا الإسناد، وغلام الخليل أحاديثه مناكير لا تحصى كثرة، وهو بين الأمر في الضعفاء‘‘. اور یہ حدیث اس اسناد اور اس کے علاوہ اسناد سے باطل ہے، اور غلام خلیل کی اتنی منکر احادیث ہیں کہ شمار نہیں کی جا سکتیں، اور ضعفاء میں اس کا معاملہ واضح ہے۔

امام دار قطنی l نے ’’الضعفاء‘‘[17] میں غلام خلیل کو ’’متروك‘‘ کہا  ہے۔

امام دار قطنی l ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: ’’غلام الخليل يضع الحديث، متروك‘‘[18]. غلام خلیل حدیث گھڑتا ہے، متروک ہے۔

حافظ ابو نعیم اصبہانی l ’’المسند المستخرج‘‘[19] میں فرماتے ہیں:  ’’روى عن الثقات بأحاديث واهية موضوعة، له صيت في الزهد والورع، لا شيء‘‘. اس نے ثقات کے انتساب سے واہی اور من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، اس کی زہد وتقوی میں شہرت تھی، یہ لا شیء ہے۔

امام ابو عبد اللہ حاکم نیشاپوریl ’’المدخل‘‘[20] میں فرماتے ہیں:  ’’روى عن جماعة من الثقات أحاديث موضوعة على ما ذكره لنا القاضي أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف من زهده وورعه ونعوذ بالله من زهد يقيم صاحبه ذلك المقام‘‘. اس نے ثقہ راویوں کی ایک جماعت کے انتساب سے من گھڑت احادیث روایت کی ہیں، باوجودیکہ قاضی ابو بکر احمد بن کامل بن خلف نے ہمارے سامنے اس کے زہد وورع کا تذکرہ کیا ہے، ہم اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ایسے زہد سے جو آدمی کو اس مقام تک لے جائے۔

علامہ ابو عبد اللہ نہاوندی l فرماتے ہیں: ’’قلت لغلام الخليل: هذه الأحاديث الرقائق التي تحدث بها؟ قال: وضعناها لنرقق بها قلوب العامة‘‘[21]. میں نے غلام خلیل سے کہا: آپ دلوں کو نرم کرنے والی احادیث بیان کرتے ہیں؟ تو غلام خلیل نے کہا: ہم نے یہ روایات گھڑی ہیں، تاکہ ان کے ذریعہ عوام الناس کے دلوں کو نرم کریں۔

حافظ جوزقانی l ’’الأباطيل‘‘[22] میں فرماتے ہیں: ’’وثلاثتهم باتفاق النقاد: غلام الخليل والشامي والعطار ظلمات بعضها فوق بعض، اتفق على إسقاط حديثهم وتفردهم‘‘. اور وہ تینوں: غلام خلیل، شامی اور عطار، ناقدین کے اتفاق سے بعض بعض سے بڑھ کر تاریک ہیں، ان کی حدیث کے اسقاط اور ان کے تفرد پر اتفاق ہے۔

حافظ ابن جوزی l ’’الموضوعات‘‘[23] میں ایک روایت کے تحت غلام خلیل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’ كذاب يضع الحديث‘‘. کذاب ہے، حدیث گھڑتا ہے۔

حافظ ذہبی l ’’المغني‘‘[24] میں فرماتے ہیں: ’’غلام خليل معروف بوضع الحديث، قبل الثلاثمائة، أقر بالوضع، وقال: وضعنا أحاديث نرفق بها القلوب‘‘. غلام خلیل حدیث گھڑنے میں مشہور ہے، تین سو ہجری سے پہلے کا ہے، اس نے حدیث گھڑنے کا اقرار کیا ہے، اور کہا ہے: ہم نے احادیث اس لئے گھڑی ہیں تاکہ اس کے ذریعہ دلوں کو نرم کریں۔

نیز حافظ ذہبیl ’’سير أعلام النبلاء‘‘[25] میں فرماتے ہیں: ’’وكان له جلالة عجيبة، وصولة مهيبة، وأمر بالمعروف، وأتباع كثير، وصحة معتقد، إلا أنه يروي الكذب الفاحش، ويرى وضع الحديث، نسأل الله العافية‘‘. اس کی شان عجیب تھی، اور رعب ودبدبہ تھا، اور یہ امر بالمعروف کرنے والا تھا، اور اس کے متبعین بکثرت تھے، اور صحیح عقیدہ رکھنے والا تھا، مگر یہ کہ کذب فاحش روایت کرتا تھا، اور حدیث گھڑنے کو جائز سمجھتا تھا، ہم اللہ سے عافیت طلب کرتے ہیں۔

حافظ ابن رجب حنبلیl ’’فتح الباري‘‘[26] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’والباهلي هو: غلام خليل، كذاب، مشهور بالكذب‘‘. اور باہلی وہ غلام خلیل ہے، جو کذاب ہے، جھوٹ بولنے میں مشہور ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’نزهة الألباب‘‘[27] میں فرماتے ہیں: ’’وكان شديد الضعف في الحديث‘‘. اور یہ حدیث میں شدید ضعیف ہے۔

حافظ ابن حجرعسقلانیl ’’الإصابة‘‘[28] میں ایک روایت کے تحت غلام خلیل کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’معروف بوضع الحديث‘‘. یہ حدیث گھڑنے میں مشہور ہے۔

حافظ سیوطی l ’’الزيادات‘‘[29] میں ایک روایت کے تحت فرماتے ہیں: ’’غلام خليل أحد المشهورين بالوضع‘‘. غلام خلیل حدیث گھڑنے والے مشہور لوگوں میں سے ایک ہے۔

علامہ ابن عراق l ’’تنزيه الشريعة‘‘[30] میں غلام خلیل کو وضاعین ومتہمین کی فہرست میں شمار کرکے فرماتے ہیں: ’’معروف بالوضع‘‘. یہ حدیث گھڑنے میں معروف ہے۔

حوالہ جات

[10] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۳۲۲،رقم:۳۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[11] المنتظم:12/266،رقم:1806،ت:محمد عبد القادر عطا ومصطفى عبد القادر عطا،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى۱۴۱۲هـ .

[12] الجرح التعديل:۲/۷۳،رقم:۱۴۲،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1372هـ .

[13] تاريخ بغداد:6/248،رقم:2735،ت:بشار عواد معروف،دار الغرب الإسلامي ـ بيروت،الطبعة الأولى ۱۴22هـ .

[14] انظر ميزان الاعتدال:1/142،رقم:557،ت:علي محمد البجاوي،دار المعرفة ـ بيروت .

[15] المجروحين:۱/150،ت:محمود إبراهيم زايد،دار المعرفة ـ بيروت،الطبعة۱۴۱۲هـ .

[16] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۳۲۲،رقم:۳۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[17] الضعفاء والمتركون:۱۲۲،رقم:۵۸،ت:موفق بن عبد الله،مکتبة المعارف ـ الرياض،الطبعة الأولى۱۴۰۴هـ .

[18] سؤالات الحاكم النيسابوري للدار قطني:۹۰،رقم:۱۵،ت:موفق بن عبد الله بن عبد القادر،مکتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى ۱۴۰۴هـ .

[19] المسند المستخرج على صحيح مسلم:1/6۰،رقم:۳0،ت:محمد حسن محمد حسن إسماعيل،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى1417هـ .

[20] المدخل إلى الصحيح:ص:۱21،رقم:18،ت:ربيع بن هادي عمير المدخلي،مؤسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الأولى1404هـ .

[21] الكامل في ضعفاء الرجال:۱/۳۲۲،رقم:۳۸،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ  بيروت .

[22] الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير:2/85،رقم:469،ت:عبد الرحمن عبد الجبار الفريوائي،المطبعة السلفية ـ الهند،الطبعة الأولى1403هـ .

[23] كتاب الموضوعات:۱/۴۱۴،ت:عبد الرحمن محمد عثمان،المکتبة السلفية ـ المدینة المنورة،الطبعة الأولى۱۳۸۶هـ .

[24] المغني في الضعفاء:۱/۹۱،رقم:۴۴۰،ت:أبي الزهراء حازم القاضي،دار الكتب العلمية ـ بيروت،الطبعة الأولى 1418هـ .

[25] سير أعلام النبلاء:۱۳/۲۸۳،رقم:136،ت:شعيب الأرنوؤط،موسسة الرسالة ـ بيروت،الطبعة الثانية1402هـ .

[26] فتح الباري شرح صحيح البخاري:8/65،ت:محمود بن شعبان بن عبد المقصود ومجدي بن عبد الخالق الشافعي وغيره ،مكتبة الغرباء الأثرية ـ المدينة المنورة،الطبعة الأولى1417هـ .

[27] نزهة الألباب في الألقاب:2/52،رقم:2080،ت:عبد العزيز محمد بن صالح السديري،مكتبة الرشد ـ الرياض،الطبعة الأولى1409هـ .

[28] الإصابة في تمييز الصحابة:۶/۵۰۵،رقم:۹۲۴۳،ت:عادل أحمد عبد الموجود وعلي محمد معوض،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الأولى1415هـ .

[29] الزيادات على الموضوعات:1/186،رقم:215،ت:رامز خالد حاج حسن،مكتبة المعارف ـ الرياض، الطبعة الأولى1431هـ .

[30] تنزيه الشريعة:1/۳۳، رقم:۲۰۹،ت:عبد الوهاب عبد اللطيف وعبد الله محمد الصديق،دار الكتب العلمية ـ بيروت، الطبعة الثانية۱۴01هـ .

پوری روایت اور اس کا حکم دیکھیں

یہ متن کتاب کی تحقیق کا حصہ ہے اور بعینہٖ نقل کیا گیا ہے؛ روایت کا حکم جاننے کے لیے پوری تحقیق دیکھیں۔

تمام رواۃ